پہلے اور بعد کی تصاویر کی حقیقت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ہزراوں جریدوں میں آپ مختلف افراد کی تصاویر دیکھتے ہیں جن میں ان کی وزن کم کرنے سے قبل اور بعد میں لی جانے والی تصاویر دکھائی جاتی ہیں مگر جسٹن پارکنسن پوچھتے ہیں کہ آپ ان تصاویر پر کتنا اعتبار کر سکتے ہیں؟

ان پہلے اور بعد میں لی جانے والی تصاویر میں دو رضاکاروں جو بھاری بھرکم ہونے سے صحت مند اور خوبصورت جسم کے مالک بنے۔

یہ پہلے اور بعد کی تصاویر ان کے طرزِ زندگی، بہتر خوراک، زیادہ ورزش اور کئی معاملات میں خوراک کے سپلمنٹ کے لینے کا نتیجہ ہے۔

تو ایسا کیا ہوا کہ یہ دو افراد بائیں جانب کی تصویر میں دکھائی دینے سے دائیں جانب کی تصویر میں دکھائی دینے والے افراد بنے۔

جواب ہے صرف دو گھنٹوں میں جب ان رضاکاروں نے بی بی سی ویلز کے پروگرام ’ویک اِن ویک آؤٹ‘ میں کھیلوں کے سپلیمنٹ پر کی جانے والی تحقیق میں حصہ لیا۔

اس عمل میں انہیں ان کے رنگ کو گندمی کرنے کے لیے سپرے ٹین کیا جانا، 15 منٹ کی روزانہ ہلکی ورزش، بیٹھنے کا بہتر طریقہ اور بہتر روشنی کا استعمال کیا گیا۔

مرد رضاکار جو نے کہا کہ ’میں فرق دیکھ کر حیران پریشان رہ گیا‘ جن کی چھاتی پر بالوں کو بھی فوٹو شوٹ کے لیے صاف کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اس دوران کچھ بھی نہیں کیا ان تصاویر میں کوئی بھی ایڈیٹنگ نہیں کی بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے اشتہار کتنی خرافات ہوتے ہیں۔‘

جسمانی بہتری ایک لمبے عرصے سے بہت منظم کاروبار ہے اور 1940 میں تن ساز چارلس ایٹلس نے اپنے تن سازی کے کورس کا اشتہار دیا خود کو ایک 97 پاؤنڈز کا مضبوط انسان دکھا کر جو بعد میں ایک انتہائی خوبصورت جسم کا مالک بنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 1940 میں تن ساز چارلس ایٹلس نے اپنے تن سازی کے کورس کا اشتہار دیا

ان دنوں خوراک کےہزاروں سپلیمنٹ بازار میں فروخت کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد لوگوں کو اپنے جسم بہتر بنانے میں مدد دینا ہے۔

یہ صنعت صرف برطانیہ میں سالانہ 30 کروڑ ڈالر مالیت کی ہے اور 2017 تک اندازہ ہے کہ یہ 22 کروڑ پاؤنڈ تک پہنچ جائے گی۔

اس سب کے باوجود بنیادی فارمولا وہی ہے۔پیٹر ڈیوس کا، جو آر ایم ایس پبلک ریلیشنز ایجنسی کے ڈائریکٹر ہیں کا کہنا ہے ، اگر آپ ڈائٹ کے لیے بنائی جانے والی مصنوعات یا صارفین کے لیے وٹامن بنانے کی اشہتار بازی کے نگران ہیں تو آپ کی ملازمت کا کوئی فائدہ نہیں اگر اس نے ایک پہلے اور بعد والی تصاویر کا اشتہار نہیں بنایا۔‘

یورپی یونین کے قوانین کے تحت تیزی سے وزن کم کرنے والی ادویات اور ایسی پہلے اور بعد کی تصاویر جن میں وزن کم کرنے کی شرح یا وزن تیزی سے کم کرنے والی ادویات کی اس رنگ میں اشتہار بازی ممنوع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption یورپی قوانین کے تحت ایسی مصنوعات جن سے تیزی سے وزن کم یا زیادہ ہو کی اشتہار بازی درست نہیں ہے

تاہم پہلے اور بعد کی تصاویر کی کوئی مخصوص ممانعت نہیں ہے اگر وہ پٹھوں کے بنانے یا تن سازی کے لیے ہوں مگر انہیں استعمال کر کے ایسا ہو گا یا ویسا ہو گا یہ دعویٰ کرنا درست نہیں۔

ایک پروٹین فراہم کرنے والا سپلمنٹ صرف یہ کہہ کر فروخت کیا جا سکتا ہے کہ وہ پٹھوں کی بڑھوتری میں کام آئے جس کے لیے محنت اور ورزش کرنی ہوگی۔

ڈیوس کا کہنا ہے کہ لوگ یہ بھی کرتے تھے کہ ’بغیر کسی لفظ لکھے وہ صرف پہلے اور بعد کی تصاویر لگا دیا کرتے تھے اور لوگ خود ہی ان کا مقصد سمجھ جاتے تھے۔ تاہم اب قوانین سخت کر دیے گئے ہیں اور کوئی بھی چیز جو لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرے وہ ہٹائی جا سکتی ہے۔‘

اس سب کا کوئی فائدہ بھی ہے؟

فوٹوگرافر اینتی کارپینن کا، جنہوں نے ہمارے رضاکاروں کا فوٹو شوٹ کیا، کہنا ہے کہ ’اس سے رضاکاروں کے اعتماد میں بہت اضافہ ہوا اور وہ اپنے آپ کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔‘

اسی بارے میں