بِگ بینگ کے بعد باقی مادہ کہاں گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی درمیانی سرحد پر واقع اس تجربہ گاہ میں آپ کو جابجا بڑی بڑی تعیمراتی مشینیں دکھائی دیتی ہیں

جوں جوں ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ کو مرمت کے بعد دوبارہ سٹارٹ کرنے کا وقت قریب آ رہا ہے اور دنیا کی اس سب سے بڑی میشن سے ذرّاتی سائنس کی تاریخ میں تیز ترین رفتار سے نکلنے جا رہے ہیں، ماہرین طبیعات کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کی خواہش ہے کہ اس مرتبہ کائنات کی تخلیق کے بنیادی ذرّے اتنی تیزی سے ایک دوسرے سے ٹکرائیں کہ اس سے خود طبیعات کی بنیادیں ہِل جائیں۔

یونیورسٹی آف لوِر پول کے شعبۂ ذرّاتی طبیعات سے منسک ماہر تارا شیئرز کہتی ہیں کہ ’میں میشن کے دوبارہ چلنے کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہوں۔ ہم جنوری 2013 سے اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب اس مشین سے پروٹون کی شعاع دوبارہ نکلے گی۔‘

فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی درمیانی سرحد پر واقع اس تجربہ گاہ میں آپ کو جابجا بڑی بڑی تعیمراتی مشینیں دکھائی دیتی ہیں اور ہر تھوڑی دیر بعد ان کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس کے ساتھ ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ یا ’ایل ایچ سی‘ کی چلنے کی آواز بھی گونجتی رہتی ہے۔

ایل ایچ سی کا محیط 27 کلومیٹر بڑا ہے۔

منصوبے کے مطابق مارچ کے وسط میں اس مشین سے پروٹون کی دو شعاعیں فائر کی جائیں گی جو ایل ایچ سی کے طویل سرکٹ میں سے گزریں گی اور اگر یہ پروٹون کسی مسئلے کے بغیر پورا چکر کاٹ لیتے ہیں تو پھر مئی میں دو مختلف سمتوں سے آنے والی نہایت تیز رفتار پروٹونز کی شعاعوں کو آپس میں ٹکرایا جائے گا اور ماہرین ٹکراؤ کے نتائج کا مشاہد کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پروفیسر تارا شیئرز نے مجھے بتایا کہ ان پروٹونز کی رفتار اس قدر زیادہ ہوگی کہ جو فاصلہ ہم کار پر 10 سے بیس منٹ میں طے کرتے ہیں، پروٹونز ایک سکینڈ کے دس ہزارویں حصے میں طے کر لیں گے۔

انھوں نے مجھے مزید بتایا کہ جب اس قدر تیز رفتار پروٹونز آپس میں ٹکرائیں گے تو ایل ایچ سی کے اندر درجہ حرارت تاریخی حد تک زیادہ ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’ہم اس مشین میں وہ درجہ حرارت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ’بِگ بینگ‘ کے بعد صفر اعشارہ ایک ارب سکینڈ میں پیدا ہوا تھا۔ یہ درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ جہاں مادہ ٹوٹ کر ایٹموں میں اور ایٹم ٹوٹ کر نیوکلیس اور نیوٹرونز میں تقسم ہو جاتے ہیں۔

’یوں ہر مادہ اپنے بنیادی ذرات میں تقسیم ہو جاتا ہے اور یہی وہ ذرات ہیں جن کا مطالعہ ہم پارٹیکل فزکس میں کرتے ہیں۔

دو سال قبل ایل ایچ سی میں آخری بڑے تجربے کے بعد زیادہ تر وقت کولائیڈر کی مرمت ہوتی رہی اور ماہرین اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پروفیسر تارا شیئرز کے بقول اس دوران اس کے اندر لگے ہوئے بڑے بڑے مقناطیسوں کا جائزہ لیا گیا، ان مقناطیسوں کے درمیان کنکشنوں کو مضبوط بنایا گیا اور اس کے علاوہ مشین کے اندر لگے ہوئے تمام الیکٹریکل آلات کا جائزہ لے کر انھیں مزید بہر بنایا گیا ہے۔‘

’اس کام میں دس سے بیس لاکھ گھنٹوں کے برابر کام کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ایل ایچ سی اتنی توانائی کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئی ہے جس کی توقع اسے ڈیزائن کرتے وقت کی جا رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان ابھی تک کُل کائنات کے صرف پانچ فیصد سے ہی واقف ہے، تاہم اس پانچ فیصد میں ہمیں توازن کی شدید کمی دکھائی دیتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب کائنات کی تخلیق کے وقت ’بِگ بینگ‘ ہوا تو اس دوران مادے کے ذرات کی دونوں اقسام پیدا ہوئیں، یعنی مادہ اور ’مادہ مخالف‘ مواد برابر مقدار میں پیدا ہوا۔

ماہرین طبعیات کہتے ہیں کہ جب یہ دو قسم کے ذرات آپس میں ٹکراتے ہیں تو وہ ’اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔‘ اور ہمیں کائنات میں جو کچھ بھی دکھائی دے رہا وہ زیادہ تر ایسے ٹکراؤ کے بعد بچ جانے والا کچرا یا ٹکڑے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیکن یہ سوال بہت حیران کن ہے کہ پیچھے بچ جانے والا یہ سارا مواد ’مادہ‘ ہے اور ہمیں کائنات میں اینٹی میٹر یا ’مادہ مخالف‘ مواد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

پروفیسر شیئرز کے بقول ’ آپ کو کائنات میں مادہ مخالف مواد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ایسا صرف سائنس فکشن فلموں میں ہوتا ہے یا مادے کے تباہ ہونے کی صورت میں یہ آپ کو تابکاری کے شکل میں دکھائی دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’کائنات میں مادہ مخالف مواد کا موجود نہ ہونا، سب سے بڑا معمہ ہے، اور آئندہ ایل ایچ سی میں جو تجربات کیے جائیں گے ان کا بنیادی مقصد اسی بات کا کھوج لگانا ہے کہ تخلیق کائنات کے وقت پیدا ہونے والا مادہ مخالف مواد آخر گیا کہاں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں