ایپل کی سمارٹ واچ: نئی سمت میں قدم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایپل کی اس سمارٹ واچ کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا

ایپل نے اپنی سمارٹ واچ متعارف کروا دی ہیں جن کی قیمتیں 349 ڈالر سے لے کر 17 ہزار ڈالر تک ہوں گی۔ اس قیمت کا انحصار گھڑی میں استعمال ہونے والی دھات اور اس کے پٹے پر ہو گا۔

گھڑی دو مختلف سائز میں دستیاب ہو گی، 42 ملی میٹر والے ماڈل کی قیمت 38 ملی میٹر والے ماڈل سے 50 ڈالر زیادہ ہو گی۔

ایپل نے اعلان کیا ہے کہ یہ گھڑیاں 24 اپریل کو فروخت کے لیے پیش کر دی جائیں گی۔

اس وقت بازار میں کئی سمارٹ گھڑیاں موجود ہیں لیکن انھیں صارفین میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔

سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران گھڑی کی تفصیلات پیش کی گئیں جو زیادہ تر پہلے ہی سے معلوم تھیں۔

کنسلٹنگ کمپنی آئی ایس ایس کے ایئن فوگ نے کہا: ’گھڑی کی قیمت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپل کو اس کے ڈیزائن، کارکردگی اور اس کی مانگ پر اعتماد ہے۔‘

ایپل کی ویب سائٹ پر گھڑی کے 38 مختلف ڈیزائن دکھائے گئے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے ایپل کو گھڑی کی مارکیٹنگ میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ APPLE WATCH
Image caption دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایپل ایک نئے میدان میں قدم رکھنے کے بعد ایک نیا شعبہ متعارف کروا سکتا ہے یا نہیں

گھڑی کے سٹیل، ایلومینیئم اور سونے کے ماڈل پیش کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ایپل نے بتایا نہیں لیکن کہا جا رہا ہے کہ مہنگے ماڈلز کی میمری زیادہ ہو گی اور انھیں بعد میں اپ گریڈ بھی کیا جا سکے گا۔

ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک نے کہا کہ گھڑی کی بیٹری 18 گھنٹے تک چلے گی، جب کہ ایپل کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ گھڑی مکمل طور پر چارج ہونے میں ڈھائی گھنٹے لگائے گی۔

کمپنی کے مطابق اس سمارٹ گھڑی کے لیے ہزاروں ایپس بنائی جا چکی ہیں، جن میں فیس بک، انسٹا گرام، اوبر اور چینی میسیجنگ ایپ ’وی چیٹ‘ شامل ہیں۔

ایپل نے کہا ہے کہ اس گھڑی کی مدد سے فون کال سننے کے علاوہ بغیر چھوئے رقم ادا کی جا سکے گی۔

گھڑی کے چند دوسرے نمایاں فیچر درج ذیل ہیں:

  • گھڑی کو مخصوص ہوٹلوں میں کمرا کھولنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا
  • یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کون سا گانا بج رہا ہے
  • انٹرنیٹ سے منسلک گیراج کا دروازہ کھولا جا سکے گا

اسی بارے میں