17 لاکھ کی گھڑی جو ’رولیکس نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک نے کیلی فورنیا میں ایپل سمارٹ واچ کی تفصیلات پیش کیں

ایپل کے سربراہ ٹم کک نے گذشتہ برس ایپل کی سمارٹ واچ کی جھلکیاں دکھائی تھیں، لیکن اس کے باوجود اس گھڑی کے بارے میں کئی سوال جواب طلب تھے۔

سب سے بڑا یہ سوال تھا کہ آخر یہ کرے گی کیا؟

پیر کو ایک تقریب میں ٹم کک نے اسی بنیادی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی، تاہم کچھ لوگ اس سے مطمئن ہوئے، کچھ نہیں ہوئے۔ جب کہ اسی دوران انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹوں پر لوگوں نے رنگارنگ ردِعمل کا اظہار کیا۔

ذیل میں اسی کا انتخاب پیش کیا جا رہا ہے:

اداکارہ اینا کینڈرک:

ہمیں ایپل کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے دس ہزار ڈالر کی گھڑی متعارف کروائی ہے۔ اس سے ہمیں ذلیل انسانوں کو پہچاننے میں مدد ملے گی۔

معیشت دان جوزف بروسوئلس:

ایپل واچ سٹیو جاب کے لیزا کمپیوٹر کی مانند ہے۔ اس کا خیال برا ہے، پیش کش بری ہے، اور یہ اسی راستے پر جائے گی جس پر گوگل گلاس گیا ہے۔

صارف جے ڈی فلین (ریڈ اٹ پر):

دس ہزار ڈالر کی گھڑی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن ایپل واچ مختلف ہے۔ یہ رولیکس نہیں ہے۔ ایک سال بعد یہ متروک ہو جائے گی، اور دس سال بعد یہ آن تک نہیں ہو گی کیوں کہ اس کی بیٹری مر چکی ہو گی۔

Image caption ایپل واچ کے درجنوں ڈیزائن دستیاب ہیں

صارف لیورلاف لو ریوینج (ریڈ اٹ پر):

مجھے امید تھی کہ ایپل کوئی اچھی چیز پیش کرے گی، کوئی ایسی چیز کو ٹیکنالوجی کو آگے بڑھائے۔ لیکن نہیں۔ اس کی بجائے انھوں نے اسے سٹیٹس سمبل بنانے کی کوشش کی ہے۔

صارف ڈین کولاسینٹی (ٹوئٹر پر):

جو لوگ 18 قیراط سونے کی 17 ہزار ڈالر والی گھڑی کا رونا رو رہے ہیں، ان کے لیے پیغام: یہ گھڑی تمھارے لیے نہیں ہے۔ اس لیے یہ برداشت کرو۔

صارف آئی پیڈرو (میک رومرز):

18 گھنٹے کی بیٹری مناسب ہے۔ آپ دن میں کتنے گھنٹے جاگتے ہیں؟

مصنف میتھیو انگریم:

17 ہزار ڈالر والی گھڑی زیادہ توجہ کا مرکز بن رہی ہے لیکن میرے خیال سے 349 ڈالر والی گھڑی خاصی مناسب ہے۔

بزنس انسائیڈر:

میں نے جب یہ ڈیمو دیکھا تو مجھے لگا کہ یہ بالکل آئی فون کی طرح ہے۔ اس میں کوئی واحد ایسی چیز نہیں تھی جو مجھے قائل کر سکے۔ لیکن چھوٹی چھوٹی مختلف چیزیں جمع ہوتی گئیں۔