ٹیکنالوجی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مقام

Image caption دنیا میں ٹیکنالوجی جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے اس کے ساتھ چلنا صارفین کے لیے مشکل ہو گیا ہے

برطانیہ میں قومی اعداد و شمار کے ادارے آفس آف نیشنل سٹیٹسٹکس کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں استعمال ہونے والا سیٹ ٹیوو اب تقریباّ متروک ہو گیا ہے۔ ماضی کے اس انتہائی مقبول آلے کی خریداری اب اتنی کم ہو گئی ہے کہ افراط زر کا جائزہ لینے والا ادارہ اب اسے اپنے جائزوں میں شامل نہیں کرتا۔

سیٹ نیوو کے زوال کی سب سے بڑی وجہ سمارٹ فونز کی مقبولیت بتائی جا رہی ہے۔ اب تقریباً ہر قسم کے سمارٹ فون میں سیٹلائٹ نیویگیشن کی ٹیکنالوجی موجود ہے اور بہت سی گاڑیوں میں بھی یہ سہولت پہلے سے پائی جاتی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی کی مانگ میں کمی نہیں آئی بلکہ اس اس کو فراہم کرنے والے آلات بدل گئے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے سینیئر ماہر پال ڈیویس کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے: ’18ماہ پہلے 46 فیصد صارفین کے پاس سیٹ نیوو تھے، اب صرف 39 فیصد کے پاس ہیں۔‘

ٹیکنالوجی کی دوڑ اتنی تیز ہوتی جا رہی ہے کہ کل کی جدید ترین اشیا آج بے کار ہو جاتی ہے۔

پیجر تو آپ کو یاد ہی ہو گا۔ ایک زمانے میں ڈاکٹر اسے بہت استعمال کرتے تھے اور 90 کی دہائی میں تو یہ سب سمارٹ لوگوں کی حیثیت کا پتہ دینے کے لیے ان کی بیلٹوں پر چپکا ہوا نظر آتا تھا۔ پھر یہ اچانک غائب ہو گیا۔ 2001 میں موٹرولا نے پیجرز بنانا بند کر دیا۔

1992 میں سونی نے منی ڈسک لانچ کی، جس سے امید کی جا رہی تھی کہ یہ سی ڈی اور کیسٹ کی جگہ لے لے گی، لیکن ایک مخصوص طبقے کے علاوہ یہ پلیئر عوام میں مقبول نہیں ہو سکا۔

Image caption دنیا میں ناکارہ، فیکس مشین جاپان میں اب بھی مقبول ہے۔

لانچ کے پہلے سال اس کے 50 ہزار سے کم یونٹ بازار میں فروخت ہوئے۔ ایسے ہی لیزر ڈسک اور بلو رے کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ویڈیو پلے بک کی دنیا میں ان کا راج رہے گا لیکن یہ بھی نہ ہوا۔

تو کیا ساری نئی ڈیوائسز اب بہت جلد ناکارہ ہونے لگ جائیں گی؟ ریسرچر ڈگ سٹیمپر کہتے ہیں کہ ایسا لازمی نہیں ہے۔ ’آپ ریڈیو کو دیکھیں، لوگ اسے سو سال سے سن رہے ہیں، اور اب بھی سنتے ہیں۔ بات اصل میں یہ ہے کہ لوگ اب ایک ڈیوائس سے بہت ساری سہولیات چاہتے ہیں۔ جو ڈیوائس صرف ایک سہولت فراہم کرتی ہے اس کا مستقبل اچھا نہیں ہے۔‘

کچھ ایسی ڈیوائسز پر نظر ڈالتے ہیں جب اب بھی استعمال میں ہیں:

پیجر: 2014 میں ڈیلی میل اخبار نے خبر شائع کی کہ حکومتی دفاتر نے 2010 کے انتخابات کا بعد سے اب تک پیجرز پر پانچ لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کچھ حساس عمارتوں میں موبائل فون پر پابندی ہوتی ہے اس لیے حکومتی حلقوں میں پیجر اب بھی مقبول ہیں۔

فیکس: جاپان میں فیکس مشین اب بھی ہر دفتر میں پائی جاتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 85 فیصد جاپانی بزنس مین فیکس کو اپنے کاروبار کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔

لیزر ڈسک: بی بی سی کے ڈینی بیکر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے پاس ہزاروں لیز ڈسکس موجود ہیں، لیکن ان کو چلانے کے لیے اب پلیئر نہیں رہا۔