ایبولا کی وبا پھوٹنے کی بڑی وجہ ’عالمی سستی‘ تھی: ایم ایس ایف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایبولا کی وبا سے دنیا بھر میں 10,251 ہوچکی ہیں: عالمی ادارۂ صحت

خیراتی طبی ادارے میدساں سانز فرنٹیر (ایم ایس ایف) نے کہا ہے کہ ایبولا کی مہلک وبا پھوٹ پڑنے کی بڑی وجہ ’عالمی سستی‘ تھی۔

ایبولا کی وبا پھوٹنے کے ایک سال بعد شائع ہونے والی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں اور اقوامِ متحدہ کے ادارۂ صحت نے مدد کی ابتدائی درخواستیں نظرانداز کر دی تھیں۔

ادارے کا کہا ہے کہ ’کئی ادارے ناکام ہو گئے جس کے ایسے المناک نتائج برآمد ہوئے جن سے بچا جا سکتا تھا۔‘

ایبولا نے گذشتہ 12 ماہ میں دس ہزار سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے، جن میں سے زیادہ تر ہلاکتیں افریقی ملکوں گنی، لائبیریا اور سیئرا لیون میں ہوئی ہیں۔

اس مرض کا شکار بننے والا پہلا فرد گنی کے ایک دور دراز علاقے کا بچہ تھا جو دسمبر 2013 میں ہلاک ہوا تھا۔

تین ماہ بعد عالمی ادارۂ صحت نے وبا پھوٹنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس کے مزید وبا کو عالمی ہنگامی صورتِ حال قرار دینے میں ادارے کو مزید پانچ ماہ لگ گئے۔ اس وقت تک ایک ہزار سے زائد لوگ مارے جا چکے تھے۔

ایم ایس ایف کے ہنگامی رابطہ کار ہینری گرے نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں گذشتہ سال مارچ ہی میں معلوم ہو گیا تھا کہ یہ کوئی مختلف چیز ہے، اور اپریل میں ہم نے نہ صرف عالمی ادارۂ صحت بلکہ اس خطے کی حکومتوں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروانے کی کوشش کی۔

’ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہ بات مایوس کن تھی کہ ہماری بات نہیں سنی جا رہی، اور شاید یہی وہ وجہ تھی کہ یہ وبا اس قدر شدت اختیار کر گئی۔‘

ایم ایس ایف نے کہا ہے کہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے خود اسے بھی اپنے زیادہ وسائل جلد از جلد استعمال کر لینے چاہیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اگست کے اختتام تک لائبیریا میں صحت کے مراکز بےبس ہو گئے تھے۔ طبی عملہ واضح طور پر متاثر مریضوں کو واپس گھروں کو بھیج رہا تھا حالانکہ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ یہ لوگ اپنے علاقوں میں جا کر دوسروں کو مرض لگا دیں گے۔

اس سال جنوری میں عالمی ادارۂ صحت نے بھی تسلیم کیا کہ اس نے بہت دیر سے ردِ عمل دکھایا تھا۔ ادارے کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چین نے کہا: ’دنیا بشمول عالمی ادارۂ صحت نے یہ سمجھنے میں دیر لگائی کہ ہو کیا رہا ہے۔‘

اب تجاویز پیش کی جا رہی ہیں کہ مستقبل میں اس قسم کے خطرات سے نمٹنے کی خاطر تیز ردِعمل دکھانے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔

ایبولا کے مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے لیکن ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ وبا اب بھی ختم نہیں ہوئی۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ جنوری کے بعد سے مریضوں کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی واقع نہیں ہوئی۔

لائبیریا میں جمعے کو دو ہفتوں کے بعد پہلا کیس سامنے آیا جس سے یہ امید بھی ساقط ہو گئی کہ شاید یہ ملک سے وائرس سے پاک ہو گیا ہے۔

گنی میں سال کی ابتدا میں مریضوں کی تعداد کم ہونے کے بعد اب دوبارہ بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں