فیس بک پر صارفین کی معلومات کا معاملہ یورپی عدالت میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یورپی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے فیس بک اور دیگر امریکی کمپنیوں کے کام کرنے کے طریقوں پر ڈارمائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

یورپی عدالتِ انصاف عنقریب یہ فیصلہ کرنے والی ہےکہ مستقبل میں گوگل اور فیس بک جیسی امریکی کمپنیوں کے ساتھ یورپ معلومات کا تبادلہ کس انداز سے کرے گا۔

وکیل اور سرگرم کارکن میکس شیرمز کا کہنا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات سے صاف ظاہر ہے کہ فیس بک اور دیگر کمپنیاں پرائیوسی یعنی نجی معلومات سے متعلق معمول کے طریقوں کو نظر انداز کر رہی ہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ ’سیف ہاربر‘ معاہدے کو ختم کیا جائے جس کے تحت امریکی کمپنیوں کو ڈیٹا منتقل کرنے کی قانونی اجازت ہے۔

فیس بک نے اس پر تاحال کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

منگل کو لگزمبرگ میں ایک سماعت کے دوران یورپ کی عدالتِ انصاف کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وہ 24 جون کو اس بارے میں اپنی حتمی رائے دیں گے۔

اس کے بعد یورپی عدالتِ انصاف اپنا فیصلہ سنائے گی۔

اس کارروائی کے نتائج امریکہ کی ان تمام کمپنیوں کے لیے اہم ہو سکتے ہیں جن کا تعلق یورپ سے ملنے والی معلومات سے ہے۔

Image caption موجودہ ’سیف ہاربر‘ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیوں کو ڈیٹا منتقل کرنے کی قانونی اجازت ہے

ان میں ٹوئٹر، گوگل، مائیکروسافٹ اور یاہو جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔ سنہ 2000 سے سیف ہاربر معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں اپنے یورپی صارفین کے بارے میں معلومات جعمع کر سکتی ہیں بشرطیکہ ان معلومات کو سنبھال کر اور حفاظت سے رکھنے کے اصولوں پر عمل ہوتا رہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کے بارے میں یورپ سے جمع ہونے والی معلومات، امریکہ میں مختلف ڈیٹا مراکز میں غیر قانونی طور پر بھی رکھی جا سکتی ہیں۔

صارفین کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے جن اصولوں پر عمل ضروری ہے ان میں صارفین کو پہلے سے نوٹس دینا ہے کہ ان کے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان معلومات تک رسائی اور اس رسائی کی کسے اجازت ہوگی اس بارے میں بھی مناسب شفافیت کے اصولوں پر عمل لازمی ہے۔

یورپی عدالتِ انصاف اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے بعد سیف ہاربر معاہدہ مؤثر رہا ہے یا نہیں۔ سنوڈن نے الزام عائد کیا تھا کہ 2007 میں امریکی قومی سلامتی کی ایجنسی ’این ایس اے‘ کے جاسوسی کے نظام کے آغاز پر فیس بک اور دیگر کمپنیوں کا گٹھ جوڑ ہوا تھا۔

وکیل شیریمز نےگذشتہ سال فیس بک کے خلاف اس کے یورپیئن ہیڈکوارٹر ڈبلن میں ایک شکایت دائر کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپ سے صارفین کے بارے میں معلومات کی امریکہ کو فراہمی پر امریکی خفیہ اداروں اور فیس بک کے درمیان مبینہ تعاون کی تحقیقات کی جائے۔

شکایت کنندہ کا یہ بھی الزام تھا کہ فیس بک نے سیف ہاربر معاہدے کے اصولوں کے برخلاف عمل کیا اور یہ کہ یورپی ڈیٹا کی حفاظت کے لیے مقامی ریگولیٹروں کو آگے آنا چاہیے۔

آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے مطلوبہ تحقیقات سے انکار کیا تھا جسے مسٹر شریمز نے آئرلینڈ کی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

اس عدالت نے یہ معاملہ یورپی عدالتِ انصاف کو بھیج دیا کہ وہ فیصلہ کرنے کہ آیا سیف ہاربر معاہدہ مؤثر رہا ہے یا نہیں۔

یورپی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے فیس بک اور دیگر امریکی کمپنیوں کے کام کرنے کے طریقوں پر ڈارمائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالت نے سیف ہاربر معاہدے کو غیر مؤثر قرار دے دیا تو معلومات کو یورپ سے امریکہ منتقل کرنا اور انھیں ڈیٹا مراکز میں سٹور کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔

ٹوئٹر جیسی کچھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ معلومات کو سنبھالنے کے لیے یورپ میں ڈیٹا مراکز قائم کریں گےگو انھیں یہی کام غیر ضروری طور پر دو مرتبہ کرنا پڑے گا کیونکہ پہلے سے ہی امریکہ میں ان کے پاس اسی طرح کے مراکز ہیں۔

وال سٹریٹ جنرل کے مطابق معلومات کے ایک برطانوی ریگولیٹر نے عدالت میں کہا ہے کہ سیف ہاربر معاہدے کو ختم کرنے کے ’سنگین مضمرات ہوں گے اور اس تجارت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا جس کی وجہ سے یورپ اور اس کے شہریوں کو اہم فوائد حاصل ہوتے ہیں۔‘

اسی بارے میں