فضا میں ٹکر کے بعد سنبھل جانے والا ڈرون تیار

تصویر کے کاپی رائٹ LENTINK LAB
Image caption سٹینفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے کاربن فائبر اور باریک پلاسٹک فلم سے ایک پتلا لچکدار پر تیار کیا

سائنسدانوں نے پھڑپھڑاتے ہوئے پروں والا ایک ایسا ڈرون بنایا ہے جو ہوا میں کسی چیز سے ٹکرانے کے بعد پہلے اپنے پر موڑ لیتا ہے اور پھر دوبارہ پرواز شروع کر دیتا ہے۔

پرندوں خصوصاً چمگادڑوں کے پروں کے ساخت کی نقل کرتے ہوئے محققین نے یہ مشین تیار کی ہے تاکہ ان کا یہ اڑتا ہوا روبوٹ رکاوٹوں کے بیچ سے سمٹ کر گزر جائے اور نقصان سے محفوظ رہے۔

اس کے بارے میں تفصیلات بائیو انسپریشن اور بائیو میمیٹک نامی جریدے میں شائع کی گئی ہیں۔

اس ڈرون کے پروں میں پرندوں کی طرح اپنے پروں کو جسم کے قریب سمیٹ لینے کی صلاحیت ڈالی گئی ہے۔

اس کے لیے سٹینفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے کاربن فائبر اور باریک پلاسٹک فلم سے ایک باریک لچکدار پر تیار کیا۔

چمگادڑ کے پر کی ساخت کا یہ پر تہہ ہونے کے بعد دوبارہ کھلتا ہے اور اس عمل کے لیے روبوٹ کے کسی دوسرے حصے کو حرکت کرنے کے ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ پر ڈرون کے باقی حجم کے ساتھ تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے جوڑے گئے ہیں اور یہ جوڑ بھی جانوروں کی جسمانی ساخت کے لحاظ سے لگایا گیا ہے۔ اس کی مدد سے پر باقی کے جسم کا پابند ہوئے بغیر آزادانہ طور پر بند اور کھل سکتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر ڈیوڈ لینٹنک کا کہنا ہے کہ وہ ’حیران ہیں کہ اس نے اتنا بہترین کام کیا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے اس روبوٹ کے پر کو ایک چھڑی کے ساتھ سختی سے ضرب لگائی اور اس نے بہت اچھے سے اس سخت اثر سے نمٹا۔‘

’حتٰی کہ آپ اسے بیس بال کے بلے جتنی سخت چیز سے بھی ضرب لگائیں تو یہ اسی طرح اس سے بچ جائے گا۔‘

محققین کا کہنا ہے کہ وہ اس پھڑپھڑاتے پروں والے ڈرون کو مزید بہتر بنائیں گے۔

فوج، تلاش اور ریسکیو کے کاموں میں ایسے چھوٹے اور پھڑپھڑاتے پروں والے ڈرونز کی کافی طلب ہے جو تیزی سے حرکت کریں اور صورتحال سے نکل کر آ سکیں۔

ڈاکٹر ڈیوڈ لینٹنک کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم جنگلوں اور درختوں والے علاقوں سے پرندوں کی طرح بچ کر نکلنا چاہتے ہیں۔ تو ڈرونز کو زیادہ طاقت ور ہونے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں