بڑوں کی گیمز بچے مت کھیلیں، اساتذہ کی والدین کو انتباہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہیڈ ٹیچرز کا کہنا ہے کہ ’کال آف ڈیوٹی‘ اور ’گرینڈ تھیفٹ آٹو‘ جیسی کمپیوٹر گیمز 18 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے کھیلنے کے لیے ہیں

برطانیہ میں چیشائر کے سکول کے ہیڈ ٹیچرز نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے اپنے بچوں کو ’کال آف ڈیوٹی‘ اور ’گرینڈ تھیفٹ آٹو‘ جیسی کمپیوٹر گیمز کھیلنے کی اجازت دی تو وہ اعلیٰ حکام کو خبر کر دیں گے۔

ہیڈ ٹیچرز کا کہنا ہے کہ ’کال آف ڈیوٹی‘ اور ’گرینڈ تھیفٹ آٹو‘ جیسی کمپیوٹر گیمز 18 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے کھیلنے کے لیے ہیں اور اگر چیشائر میں رہنے والے والدین نے اپنے بچوں کو یہ گیمز کھیلنے سے منع نہ کیا تو انھیں ’کہیں کہیں غفلت کا مرتکب‘ قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام کو اس کی اطلاع کر دی جائے گی۔

نینٹیچ ایجوکیشن پارٹنرشپ گروپ کے 16 سکولوں نے اس سلسلے میں بچوں کے والدین کو ایک خط لکھا ہے۔ ہیڈ ٹیچرز کا کہنا ہے کہ ان دونوں کمپیوٹر گیمز میں نامناسب حد تک تشدد پایا جاتا ہے۔

سکولوں کے سربراہوں کا دعویٰ ہے کہ ایسی کمپیوٹر گیمز کھیلنے اور سوشل میڈیا کی کچھ ویب سائٹس تک رسائی سے نوجوان میں جنسی رویوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کی کچھ سائٹس پر جانے اور ان گیمز کے کھیلنے سے یہ بچے جنسی استحصال کا بھی شکار بن سکتے ہیں۔

میری ہینیسی جونز، جنھوں نے والدین کے نام خط کا مضمون بنایا ہے کہتی ہیں ’آج کل کے ڈیجیٹل دور میں ہم والدین کی مدد کر رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو جتنا محفوظ رکھ سکتے ہیں رکھ لیں۔ بچوں کے لیے بہت آسانی سے خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور اگر ہم والدین کو واضح ہدایات دیں تو ان سے انھیں مدد ملتی ہے۔ ‘

اس مہینے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا تھا اگر ذمہ دار عہدوں پر فائز بڑوں نے، بچوں کے ساتھ زیادتی یا غفلت کے الزامات پر کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس کی اطلاع نہ دی ہوئے تو انھیں پانچ سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں