کیا آپ بھی اپنے بچے کا موٹاپا چھپاتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عام طور پر والدین کو اپنے بچے موٹے نظر نہیں آتے

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ موٹاپے کے صحت پر برے نتائج مرتب ہوتے ہیں تاہم والدین مشکل سے ہی اپنے بچوں کے موٹاپے کو دیکھ پاتے ہیں۔

برطانیہ میں تقریبا 3000 کنبوں پر مبنی ایک مطالعے میں یہ پایا گیا کہ صرف چار والدین نے اپنے بچوں کے موٹاپے کے بارے میں بات کہی جبکہ طبی جانچ میں 369 بچے موٹاپے کا شکار پائے گئے۔

جنرل پریکٹس نامی برطانوی جرنل میں محققین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں موٹاپا نیا معمول بن گیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس مطالعے سے موٹاپے کی وبا کی ’زیادتی‘ کا اندازہ ہوتا ہے۔

نیشنل چائلڈ میزر پروگرام کے مطابق چھ سال کے بچوں میں ہر پانچواں بچہ موٹاپے کا شکار ہے جبکہ ان میں 14 فی صد حد سے زیادہ وزن کے زمرے میں آتے ہیں۔

لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن اور گریٹ آرمنڈ سٹریٹ ہسپتال کی ٹیم نے تقریبا 3000 خاندانوں کو ایک سوال نامہ دیا جس میں پوچھا گیا کہ آیا ان کے بچے موٹاپے کا شکار یا مقررہ حد سے وزنی یا اس سے کم یا صحت مند درجے کے وزن میں آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption والدین کے اپنے بچوں کے موٹاپے کو نہ پہچاننے کی تشریح اس طرح کی گئی کہ سماج ہی اس قدر موٹا ہو گیا ہے کہ ہم مجموعی طور پر صحت مند وزن کا اپنا اندازہ ہی کھو چکے ہیں

اس کے جواب میں 31 فیصد والدین نے اپنے بچوں کے وزن کا تخمینہ کم لگایا جبکہ درست جانچ سے پتہ چلا کہ بچے موٹاپے کی جانب مائل ہیں۔

گریٹ آرمنڈ سٹریٹ کے پروفیسر رسل وائنر نے بی بی سی کو بتایا:

’ماڈرن والدین اپنے بچوں کے موٹاپے کو نہیں پہچانتے۔ اگر والدین ہی نہیں پہچانیں گے کہ ان کا بچہ موٹا ہے تو پھر وہ صحت مند وزن حاصل کرنے کے لیے ان کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ اس سے صحت عامہ کے بحران میں اضافہ ہوتا ہے۔

والدین کے اپنے بچوں کے موٹاپے کو نہ پہچاننے کی تشریح اس طرح کی گئی کہ ’معاشرے ہی اس قدر موٹاپا ہو گیا ہے کہ ہم مجموعی طور پر صحت مند وزن کا اندازہ ہی کھو چکے ہیں۔‘

چیف میڈیکل افسر ڈیم سیلی ڈیویز نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس بات کو اٹھایا کہ مقررہ حد سے زیادہ وزن نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ماہرین کا خیال ہے کہ موٹاپے کی وبا سے بچنے کے لیے صحت مند غذا اور اچھی صحت کے رشتے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے

پروفیسر وائنر نے کہا: ’ہمیں ایسے طریقوں کی ضرورت ہے جس ہم والدین کو یہ تعلیم دے سکیں کہ جب ان کے ہاں ولادت ہو تو ان کے بچے کا سائز کیا ہونا چاہیے اور دوسرے والدین سے اپنے خدشات کے بارے میں بات کرنے سے خوفزدہ نہ ہوں۔‘

اس مطالعے کے نتائج پر رائل سوسائٹی فار بپلک ہیلتھ کی شرلی کریمر نے کہا: ’سکول کی تعلیم کے دوران متحرک طرزِ زندگی اور صحت مند غذا کی اہمیت و افادیت پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے تاکہ معاشرہ غذا اور اچھی صحت کے رشتے کو سمجھ سکے۔‘

انھوں نے کہا: ’اس میں والدین اپنے بچوں کے اہم رول ماڈل ہوتے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ صحت کو متاثر کرنے والے تمام عوامل سے وہ واقف ہوں۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ صرف والدین کا ہی کام نہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھی اچھی غذا کے پیغام کو عام کرنے میں تعاون کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ جنک فوڈ کی تشہیر کو محدود کرنے اور کھانوں کی اچھی غذائیت کا لیبل لگانے سے اس میں تعاون ملے گا۔

اسی بارے میں