پانچویں مرحلے میں سولر امپلس چین پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سولر امپلس کا بازو 72 میٹر دراز ہے جو کہ جمبو 747 جیٹ سے بھی بڑا ہے تاہم اس کا وزن صرف 2.3 ٹن ہے

بغیر ایندھن کے شمشی قوت سے چلنے والا طیارہ سولر امپلس دنیا کے گرد پرواز کے اپنے پانچویں مرحلے میں برما سے چین پہنچا ہے۔

یہ طیارہ میانمار سے اتوار اور پیر کی درمیانی شب روانہ ہوا اور 20 گھنٹے کی پرواز کے بعد پیر کی شب چین میں پہلے چونگ چنگ میں اترا۔

سولر امپلس کے لیے اس کے بعد کا مرحلہ بڑا ہوگا کیونکہ اسے بڑے سمندر کو عبور کرنا ہوگا اور یہ سفر پانچ دن اور پانچ راتوں پر مشتمل ہوگا جس کے بعد یہ طیارہ امریکی ریاست ہوائی پہنچے گا۔

نانجنگ کے لیے مشن کنٹرول پیر کو دیر گئے تک کوئی فیصلہ نہیں لے گا بلکہ یہ فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ طیارے کی بیٹریوں میں کتنی توانائی باقی ہے۔

چینی فضائی ٹریفک حکام یہ چاہیں گے کہ چھٹا مرحلہ صبح پو پھٹنے سے قبل شروع ہو۔ لیکن اگر سولر امپلس کی بیٹری کی توانائی کے ذخیرے میں کمی ہوئی تو اس کے پھر سے چارج ہونے تک وہ چونگ چنگ میں ہی رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس جہاز کو سوئٹزر لینڈ کے دو پائلٹ آندرے بوریش برگ اور برتروں پیکارڈ وقفے وقفے سے اڑا رہے ہیں

مسئلہ یہ ہے کہ چونگ چنگ میں آنے والے کئی دنوں تک خراب موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے اور اگر یہ طیارہ فوری طور پر روانہ نہیں ہوا تو پھر اس کی پرواز میں ایک ہفتے تک کی تاخیر ہو سکتی ہے۔

سولر امپلس نے منڈالے انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح تقریبا ساڑھے تین بجے اڑان بھری۔ یہ مرحلہ قدرے طویل ہے کیونکہ اس مرحلے میں یہ طیارہ 1375 کلو میٹر کا سفر طے کرے گا اور اس میں تقریبا 19 گھنٹے لگیں گے۔

خیال رہے کہ اس بغیر ایندھن کے طیارے کا مشن ابوظہبی سے 20 دن قبل شروع کیا گیا تھا اور سوئٹزرلینڈ پر مبنی یہ پروجیکٹ 12 مرحلوں میں پورا کیا جائے گا جس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

ایک نشست والے اس جہاز کو سوئٹزر لینڈ کے دو پائلٹ آندرے بوریش برگ اور برتروں پیکارڈ وقفے وقفے سے اڑا رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ طیارہ سولر امپلس نے آدمی کے ذریعے چلائے جانے والے شمسی توانائی کے طیارے کے معاملے میں دو عالمی ریکارڈز قائم کیے۔

پہلا ایک ہی بار میں اب تک کی سب سے لمبی مسافت طے کرنا جو کہ عمان کے شہر مسقط سے بھارتی شہر احمد آباد کے درمیان 1468 کلو میٹر پر مبنی تھا۔

دوسرا ریکارڈ 216 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار کا ریکارڈ تھا جو کہ بھارت کے شہر وارانسی سے میانمار کے مینڈیلے کے درمیان حاصل کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اس کے پروں پر 17 ہزار سولر سیلز نصب ہیں اور توانائی زخیرہ کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں بھی نصب ہیں تاکہ جہاز رات کو بھی پرواز کر سکے

خیال رہے کہ ابھی تک شمسی توانائی سے چلنے والے کسی طیارے نے دنیا کا مکمل چکر نہیں لگایا ہے۔

سولر امپلس کا بازو 72 میٹر دراز ہے جو کہ جمبو 747 جیٹ سے بھی بڑا ہے تاہم اس کا وزن صرف دو اعشاریہ تین ٹن ہے۔

شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اس کے پروں پر 17 ہزار سولر سیلز نصب ہیں اور توانائی زخیرہ کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں بھی نصب ہیں تاکہ جہاز رات کو بھی پرواز کر سکے۔

اسی بارے میں