کروڑوں برس پہلے برسنے والی مون سون بارشوں کی کھوج

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت میں مون سون کی بارشوں میں سالانہ پانچ سے دس فیصد اضافے کی پیشنگوئی کی گئی ہے

سائنسدان بحرِ ہند کی تہہ سے نکالے جانے والے ’فوسلز‘ کی مدد سے کروڑوں برس پہلے ہونے والی مون سون کی بارشوں کے ارتقا کا کھوج لگانے کے لیے کوشاں ہیں۔

یہ نمونے سمندر کی تہہ کو کھود کر نکالے گئے ہیں اور ان کی مدد سے ماضی میں ہونے والی بارشوں اور اس وقت کے درجۂ حرارت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

اس تحقیق کا مقصد ماضی میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔

یونیورسٹی آف ایگزیٹر کی ڈاکٹر کیٹ لٹلر کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ برصغیر میں مون سون بارشوں کے عمل میں کیسے تبدیلی آئی اور مستقبل میں کیا تبدیلی آ سکتی ہے۔

برصغیر میں مون سون بارشیں مئی اور جون کے مہینوں میں سخت گرمی کی وجہ سے شمالی بحرِ ہند کے پانی کے گرم ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

یہ پانی بخارات بن کر فضا میں بلند ہو جاتا ہے اور پھر جولائی سے ستمبر تک برستا ہے۔ یہ بارشیں اس خطے میں ہونے والی سالانہ بارش کا 75 فیصد ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنوبی ایشیا کے ممالک ہر برس مون سون کی بارشوں کی زد پر آتے ہیں

تحقیق میں بھارت میں مون سون کی بارشوں میں سالانہ پانچ سے دس فیصد اضافے کی پیشنگوئی کی گئی ہے جس کا اثر ملکی معیشت اور زراعت پر پڑ سکتا ہے۔

یہ تحقیق یو کے انٹرنیشنل اوشن ڈسکوری پروگرام کے تحت کی گئی اور ڈاکٹر کیٹ اس مہم کا حصہ تھیں جو ایک ڈرلنگ کرنے والے بحری جہاز پر بحرِ ہند، خلیجِ بنگال اور بحیرۂ انڈیمان میں گئی۔

اس مہم کے دوران عالمی سائنسدانوں نے کئی مقامات پر سمندر کی گہرائیوں سے نمونے جمع کیے۔ ان میں سے کئی نمونے ایسے مقامات سے لیے گئے جہاں اس سے قبل کبھی کھدائی نہیں کی گئی تھی۔

آبی حیات کے ان فوسلز کی مدد سے وہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جو ان کی زندگی کے وقت تھا۔

ڈاکٹر لٹلر کا کہنا ہے کہ ’ہم مون سون کے ارتقا کے بارے میں جاننا چاہتے تھے جب اس میں 80 لاکھ سال قبل تیزی آئی۔‘

اسی بارے میں