دل کی بیماری: جتنے پست قد، اتنا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قد اور دل کی بیماری کے درمیان تعلق پر 50 سال پہلے بھی تحقیق ہوئی تھی تاہم اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تھی

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسٹر میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ آپ جتنے قد میں چھوٹے ہوتے ہیں، آپ کو اتنا ہی زیادہ دل کی بیماری کا خطرہ رہتا ہے۔

انھوں نے دو لاکھ افراد پر تحقیق کر کے ان کے ڈی این اے کے اس حصے کا پتہ لگایا جو قد اور دل کی صحت کو کنٹرول کرتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ قد میں ہر ڈھائی انچ کے اضافے سے دل کی بیماری کا امکان 13.5 کم ہو جاتا ہے۔

تاہم برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ چھوٹے قد کے افراد کو اس سے غیر ضروری طور پر پریشان نہیں ہونا چاہیے اور ہر کسی کو صحت مندانہ طرز زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔

برطانیہ میں دل کی بیماری، جس میں دل کا دورہ اور ہارٹ فیلیئر شامل ہیں، اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہر سال اس سے یہاں 73 ہزار سے زیادہ افراد کی موت ہوتی ہے۔

50 سال پہلے یہ معلوم ہوا تھا کہ دل کی صحت میں انسانی قد کا کلیدی کردار ہے لیکن تحقیق کاروں کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تھی۔

یہ بھی کہا گیا کہ کئی اور وجوہات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے جیسا کہ بچن میں غذا کی کمی سے قد پر اثر پڑتا ہے جس کا اثر دل پر ہو سکتا ہے۔

لیکن یونیورسٹی آف لیسٹر کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دراصل اس کا جواب ہمارے ڈی این اے کے اندر موجود ہے۔

انھوں نے 180 جینز کا مشاہدہ کیا جن کا تعلق قد سے بتایا جاتا تھا۔

تحقیق سے پتہ چلا کہ ہر ڈھائی انچ سے بیماری کے خطرے پر 13.5 فیصد کا اثر پڑتا ہے۔ سو ایک پانچ فٹ کے انسان اور ایک چھ فٹ کے انسان کے درمیان یہ فرق تقریباً 64 فیصد ہو جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف لیسٹر کے پروفیسر سر نیل سامانی نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ ’دوسرے خطرات کے تناظر میں یہ بہت تھوڑا ہے، جیسا کہ سگریٹ پینے سے یہ خطرہ 200 سے 300 فیصد بڑھ جاتا ہے، لیکن پھر بھی یہ کم نہیں ہے۔

’میں یہ نہیں کہوں گا کہ چھوٹے قد کے انسان کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ چھ فٹ ایک انچ لمبے شخص کو بھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔‘

تحقیق کے مطابق وہ جینز جن کی وجہ سے قد چھوٹا ہوتا ہے وہ خون میں کولیسٹرول اور چربی کی مقدار بڑھانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔

تحقیق کاروں کے مطابق قد کے کچھ جینز خون کی نالیوں کی نشو و نما بھی کنٹرول کرتے ہیں۔

پروفیسر سامانی نے کہا کہ اس تحقیق سے بیماری کے نئے علاج وضع کرنے میں مدد ملے گی جو مستقبل میں مدد گار ثابت ہو گا۔

لیکن لمبے افراد کے لیے ایک بری خبر بھی ہے اور وہ یہ کہ انھیں سرطان کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر پیٹر ویزبرگ کہتے ہیں کہ ’اس تحقیق کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ چھوٹے قد کے افراد کو اپنی صحت کے متعلق غیر ضروری طور پر فکر مند ہونا چاہیے یا ڈاکٹروں کو چھوٹے قد کے لوگوں کی صحت پر زیادہ توجہ دینا چاہیے۔‘

’اپنے قد سے قطع نظر ہر کسی کو صحت مندانہ غذا، باقاعدہ ورزش اور سگریٹ نوشی نہ کرنے جیسے طریقوں کے ذریعے وہ سب کچھ کرنا چاہیے جس سے مستقبل میں دل کی بیماری کا امکان کم ہو۔‘

اسی بارے میں