مالٹا: شکاریوں کو ریفرینڈم میں شکار کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس ریفرنڈم میں 14 اپیل سے 30 اپریل کے درمیان شکار پر پابندی کے مطابے پر ووٹ ڈالے گئے

مالٹا میں ہونے والے ایک ریفرینڈم میں موسمِ بہار میں ہجرت کرنے والے پرندوں کو انڈے دینے سے پہلے شکار کرنے پر پابندی کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

ریفرینڈم میں کانٹے دار مقابلہ ہوا اور نصف سے کچھ زیادہ ووٹ شکار جاری رکھنے کی حمایت میں ڈالے گئے۔

پابندی کے لیے مہم چلانے والوں نے شکست تسلیم کر لی ہے۔

شکار جاری رکھنے کے حق میں تقریباً 51 فیصد ووٹ پڑے اور نتائج کے اعلان کے بعد شکار کے حامیوں نے ملک میں خوب جشن منایا ہے۔

بی بی سی کے ماریو کسیوٹلو نے کے مطابق شکاریوں کی انجمن کے سربراہ پریسی کیلاسیون نے ریفرینڈم کے نتیجے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شکار مالٹا کی روایات کا ایک لازمی جز ہے۔

دوسری جانب شکار کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اب موسمِ بہار کے فاختہ اور بٹیر کے سالانہ شکار کو روکنا بہت مشکل ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مالٹا میں موسم بہار کے تفریحی شکار کی اجازت ہے

واضع رہے کہ پرندوں کے تحفظ کی مہم چلانے والوں اور ان کے مخالفین میں شکار کا تنازع ایک عرصے سے جاری ہے۔

پابندی کے مخالفین کے مطابق اس سے ملک کی ایک اہم روایت کو خطرہ ہے جبکہ مخالفین کے مطابق پرندوں کے معدوم ہونے کا خدشہ ہے۔

ناقدین شکاریوں پر بڑی تعداد میں پرندوں کو مارنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 1980 سے اب تک فاختہ کی تعداد میں 77 فیصد کمی ہوئی ہے۔

اس ریفرینڈم میں 14 اپیل سے 30 اپریل کے درمیان شکار پر پابندی کے مطابے پر ووٹ ڈالے گئے اور ریفرینڈم میں تین لاکھ 40 ہزار افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔

ملک کے وزیرِاعظم جوزف مسکٹ جو شکار کے حق ہیں نے اتوار کو شکار کے حمایوں کو فاتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے حق میں تقریباً 51 فیصد ووٹ پڑے ہیں۔

اس کے ساتھ انھوں نے خبردار بھی کیا کہ موجودہ قوانین کاسختی سے اطلاق ہوگا اور اگر کسی نے قانون توڑا تو اسے سزا ملے گی۔

واضع رہے کہ مالٹا یورپی یونین کا واحد ملک ہے جہاں موسم بہار کے تفریحی شکار کی اجازت ہے۔