پاکستانی خواتین کے لیے ’ہمارا انٹرنیٹ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

خواتین کو ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے دنیا بھر میں اب انٹرنیٹ ایک اہم ہتھیار بنتا جا رہا ہے اور پاکستان میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہے۔

پاکستان میں بھی خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے کا رواج تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن یہاں نہ تو ایسے جرائم کے خلاف قانون موجود ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ سکیورٹی سے متعلق کوئی آگہی۔

پاکستان میں کتنی خواتین انٹرنیٹ یا سمارٹ فون تک رسائی رکھتی ہیں اس حوالے سے تو کوئی مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم ہیکنگ، سائبر سٹاکنگ اور شناخت کی چوری کے واقعات یقیناً ہزاروں خواتین کے ساتھ ہو چکے ہیں۔

فاطمہ علی بھی ان میں سے ایک ہیں۔ فاطمہ نے بتایا کہ انھیں انٹرنیٹ پر دھمکیاں دی گئیں کہ ان کی تمام نجی معلومات آن لائن پوسٹ کر دی جائیں گی۔

’مجھے خود پر بہت اعتماد تھا۔ میں جانتی تھی کہ میں نے کوئی غلط کام کیا ہی نہیں تو مجھے ایسی دھمکیوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن میں اندر سے ڈر بھی رہی تھی کہ پتہ نہیں کیا ہوگا۔ پتہ نہیں میری کیا بدنامی ہو جائے۔ اور خوف کی وجہ سے میں یہ معلومات اپنی فیملی سے بھی شیئر نہیں کر رہی تھی۔‘

اکثر ایسی صورت حال کا نتیجہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ خواتین ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہیں بلکہ بہت مرتبہ تو انھیں انٹرنیٹ اور سماجی رابطے کی ویب سائٹوں کے استعمال سے ہی روک دیا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق بھی اب بنیادی حقوق میں ہی شامل ہوتا جارہا ہے۔

ایسی صورت میں خواتین کو یہ بتانے کی ضرورت شاید زیادہ ہے کہ وہ آن لائن کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ اور اسی مقصد کے لیے ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن نے ’ہمارا انٹرنیٹ‘ نامی مہم شروع کی ہے۔

اس مہم کے تحت خواتین کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال سے متعلق تربیت دی جا رہی ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے ہیں جن میں نوجوان لڑکیوں کو یہ آگہی دی جارہی ہے کہ سمارٹ فونز اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر انھیں کس قسم کے خطرات درپیش ہیں اور وہ اس سے بچنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کر سکتی ہیں۔

یہ مہم شروع کرنے والی ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نگہت داد نے بتایا: ’لڑکیاں یہ جاننے کے بارے میں بہت پر جوش ہیں کہ وہ انٹرنیٹ پر اپنی بات چیت، تصاویر اور دوسری معلومات کو کیسے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پہلے انھیں اس طرح کی معلومات کبھی دی ہی نہیں گئیں کہ وہ سنگین نوعیت کے سائبر کرائمز سے بچ سکیں اور انھیں پولیس یا عدالت تک نہ جانا پڑے۔ ’ہمارا انٹرنیٹ‘ مہم کے دوران خواتین کو وہ قوانین اور حکمت عملی بھی بتائی جارہی ہے جو وہ آن لائن ہراساں کیے جانے کے بعد اختیار کرسکتی ہیں۔‘

ہادیہ حمید الیکٹریکل انجنیئرنگ کی طالبہ ہیں۔ وہ گذشتہ کئی برس سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹیں استعمال کررہی ہیں۔ ماضی میں ان ویب سائٹوں کے ذریعے ہراساں بھی ہوچکی ہیں۔

انھوں نے لاہور کی یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ہونے والے ’ہمارا انٹرنیٹ‘ کے ایک تربیتی سیشن میں شرکت کی۔

Image caption خواتین کو یہ بتانے کی ضرورت شاید زیادہ ہے کہ وہ آن لائن کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں

ہادیہ کہتی ہیں: ’یہ ایک بہت معلوماتی سیشن تھا۔ مجھے اندازہ اور تجربہ تھا کہ لوگ انٹرنیٹ پر خواتین کو تنگ کرتے ہیں، ان کا پیچھا کرتے ہیں انھیں نامناسب پیغامات بھیجتے ہیں۔ لیکن یہ جرائم کس حد تک جا سکتے ہیں اور اس کے ہم پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں یہ مجھے بالکل پتہ نہیں تھا۔ میں نے یہ سیکھا ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون استعمال کرتے ہوئے میں خود کو کس طرح محفوظ رکھ سکتی ہوں۔‘

لیکن ہادیہ اور سیشن میں شرکت کرنے والی بہت سے طالبات سمجھتی ہیں کہ اس طرح کی تربیت کو صرف خواتین تک محدود کرنا مناسب نہیں۔

یہ تربیت مردوں کو بھی دی جانی چاہیے اور انھیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ وہ آن لائن اپنی اخلاقیات کا خیال رکھیں اور خواتین کے ڈیجیٹل اور انسانی حقوق کو پامال کرنے سے گریز کریں ورنہ انھیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں تو شاید ایسے سیشنز کرنا ممکن نہیں تاہم خواتین کے لیے محفوظ براؤزنگ کی ٹپس ’ہمارا انٹرنیٹ‘ کی ویب سائٹ http://www.hamarainternet.org پر بھی دستیاب ہیں۔

اسی بارے میں