بھارت میں قدیم ترین انسانی ڈھانچے کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ manoj dhaka
Image caption ان باقیات میں دو بالغ مرد، ایک خاتون اور ایک بچے کے ڈھانچے شامل ہیں

بھارت میں ماہرین آثارقدیمہ نے کہا ہے انھیں کھدائی کے دوران برصغیر میں قدیم ترین تہذیب کے انسانی ڈھانچے ملے ہیں۔

وادیِ سندھ کی قدیم تہذیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پانچ ہزار سال قبل اس خطۂ ارضی میں پھلی پھولی تھی اور اس کی دریافت پہلی بار موہن جودڑو میں سنہ 1920 کی دہائی میں ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ موہن جودڑو کا علاقہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے۔

انسانی ڈھانچے کی باقیات بھارتی دارالحکومت سے متصل ریاست ہریانہ کے ایک قبرستان سے ملی ہیں جن میں دو بالغ مرد، ایک خاتون اور ایک بچے کے ڈھانچے شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے قدیم ہندوستانیوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

بھارت اور جنوبی کوریا کے ماہرین آثار قدیمہ اور سائنس دان ہریانہ کے حصار ضلعے میں راکھی گڑھی گاؤں میں سنہ 2013 سے کھدائی میں لگے ہوئے ہیں۔

ماہر آثار قدیمہ رنویر سنگھ نے کہا کہ ’وہاں موجود جدید آلات سے لیس جنوبی کوریا کے سائنس دان اب ان ڈھانچوں کے ڈی این اے کا جائزہ لیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Manoj dhaka
Image caption ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے ہندوستان کے قدیم باشندوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہو سکیں گی

اسی مقام پر کام کرنے والے ایک دوسرے ماہر آثار قدیمہ نیلیش جادھو نے بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ انھیں ’وہاں چند اناج والے مٹی کے برتن اور سیپ کی چوڑیاں ملی ہیں جو ڈھانچوں کے پاس تھیں۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کے باسی دوبارہ کی زندگی میں یقین رکھتے تھے۔‘

اسی بارے میں