روشنی کے گولے پھینکتا دمدار ستارہ

روزیٹا کی تصاویر تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پی 67 سے 900 میٹر ’جیٹ‘ اڑتا ہوا صاف دکھائی دیتا ہے

یورپ کے روزیٹا خلائی مشن نے ایک کومٹ سے گیس اور گرد کے غبار کو فلمبند کیا ہے۔

چار کلو میٹر بڑے برف اور گرد کا دمدار سیارہ جسے ’کامٹ 67 پی‘ کہتے ہیں سورج کی جانب سفر کرتے ہوئے بہت بڑی مقدار میں ایسا مادہ خلا میں پھینک رہا ہے۔

خلائی گاڑی روزیٹا اگرچہ اس سے مناسب فاصلے پر ہے لیکن وہ اس کی متواتر تصاویر لے رہی ہے۔

سائنس کیمرہ سسٹم سے لی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بطخ نما کومٹ کس طرح پچھلی طرف سے پھٹتا ہے۔

یہ خلا کا وہ علاقہ ہے جسے ’امہوٹیپ‘ کہا جاتا ہے اور یہ مصریوں کے حکمت اور طب کے خدا سے منسوب ہے۔

اس واقعے کے متعلق گذشتہ ہفتے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں یورپین جیو سائنسز کی جنرل اسمبلی کے دوران بتایا گیا۔

اوسیریز کی ٹیم کے ممبر کارسٹن گٹلر نے اجلاس کو بتایا کہ ’ہم نے مارچ 12 کو ایک بڑے قسمت رہے اور ہمیں صرف دو منٹ کے وقفے کی تصاویر ملیں۔‘

’پہلی تصویر میں، نیوکلیئس کے نیچے آپ کو کچھ نظر نہیں آتا۔ دو منٹ اور دس سیکنڈ کے دوران دوسری تصویر میں ایک پورا جیٹ مکمل ہو جاتا ہے۔‘

’اس جیٹ کی لمبائی 900 میٹر ہے اور دو منٹ کے وقفے سے آپ اس کی رفتار کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو کہ 8 میٹر فی سیکنڈ ہے۔‘

اوسیریز کے پرنسپل انویسٹیگیٹر ہولگر سیرکس نے کہا کہ ’کسی نے بھی پہلے گرد کے ذرات کو اٹھتا ہوا نہیں دیکھا ہو گا، ایسی چیزوں کی پہلے سے منصوبہ بندی کرنا ناممکن ہے۔‘

توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں جب دمدار ستارہ سورج کے مزید قریب جائے گا تو اس پر جیٹ بننے میں تیزی آئے گی۔

ایسا 13 اگست کو ہو گا۔ اس دن خلائی بطخ مریخ کے مدار میں داخل ہو جائے گی جو کہ سورج سے 180 ملین کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

اس وقت روزیٹا کہاں ہو گا یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

یورپین سپیس ایجنسی کو گذشتہ ماہ روزیٹا کو تقریباً دمادار ستارے سے 100 کلو میٹر فاصلے پر رکھنا پڑا تھا کیونکہ ستارے سے نکلنے والی گرد سے اس کا مواصلاتی نظام متاثر ہو رہا تھا۔

اسی بارے میں