مرد عورتوں سے زیادہ جی سکیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

طویل عرصے سے یہ بات ہر ایک قبول کر چکا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ مدت زندہ رہتی ہیں۔

لیکن امپیرئل کالج لندن کی ایک نئی تحقیق کہتی ہے کہ اب عورتوں اور مردوں کے درمیان عمر کا یہ ’صنفی فرق‘ کم ہو رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق سنہ 2030 میں ویلز اور انگلینڈ میں مرد یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اوسطاً 85.7 برس تک زندہ رہیں گے، یعنی خواتین کے مقابلے میں صرف دو برس کم۔

اس کے برعکس سنہ 1981 میں توقع کی جاتی تھی کہ مرد خواتین کے مقابلے میں چھ سال پہلے انتقال کر جائیں گے۔

لیکن سول پیدا ہوتا ہے کہ عمر میں یہ صنفی فرق ہوتا کیوں ہے اور کیا کبھی یہ فرق ختم بھی ہو گا یا نہیں؟

کیا یہ فرق ہمیشہ رہا ہے؟

برطانیہ کے کیس بزنس سکول سے منسلک پروفیسر لیس ماہیو کہتے ہیں کہ سنہ 1909 میں خواتین مردوں سے اوسطاً صرف ڈھائی برس زیادہ زندہ رہتی تھیں۔

یہ وہ وقت تھا جب موت کا سبب زیادہ تر کوئی انفیکشن ہوتی تھی جو کئی لحاظ سے مردوں اور خواتین دونوں پر مساوی اثراانداز ہوتی تھی۔

اُن دنوں زیادہ تر بالغ لوگ 50 کے پیٹے میں مر جاتے تھے جبکہ لڑکوں اور لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد 55 میں ہی کسی بیماری سے مر جاتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جوں جوں لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوا اور بڑی بیماریوں کے علاج کے لیے کئی قسم کی اینٹی بائیوٹکس ادویات بنا لی گئیں تو لوگوں کی اوسط عمر میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔

لیکن اوسط عمر میں اس اضافے کے باوجود گذشتہ صدی کے دوسرے نصف میں مردوں اور خواتین کی عمروں میں فرق میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔

مرد و زن کا یہ فرق ہوتا کیوں ہے؟

مردوں اور خواتین کی عمروں میں فرق کا ایک بڑا سبب سگریٹ نوشی کو سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے زیاد تر لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ برسوں میں اس فرق کے کم ہونے کی ایک اہم وجہ سگریٹ نوشی میں کمی ہے۔

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ زیادہ تر مرد خواتین کی نسبت سگریٹ نوشی کم عمر میں شروع کر دیتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس مردوں پر اس عادت کے اثرات زیادہ مدت رہتے ہیں جس کا اثر ان کی عمر پر پڑتا ہے۔

سنہ 1948 کے اندازوں کے مطابق اُن دنوں ہر آٹھ میں ایک مرد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کر رہا تھا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ کئی مرد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں، یعنی دل کا دورہ پڑنے اور پھیپھڑوں کے سرطان سے مر گئے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہتر علاج اور معیارِ زندگی سے جو فوائد حاصل ہو سکتے تھے وہ مردوں کو نہیں ملے۔

مردوں کے مقابلے میں خواتین نے سگریٹ نوشی اوسطاً ایک نسل بعد میں شروع کی، تاہم خواتین میں سگریٹ نوشی اس تناسب سے نہیں پھیلی جتنی مردوں میں پھیلی۔

سنہ 1960 اور 1970 کی دھائیوں میں ڈاکٹروں اور حکومتوں نے تمباکو نوشی اور موت کے درمیان تعلق کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ لینا شروع کر دیا، اور پھر آہستہ آہستہ تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آنا شروع ہو گئی۔

اُن دنوں تمباکو نوشی میں کمی کرنے کا پھل لوگوں کو آج کل مِل رہا ہے اور چونکہ اُس وقت تمباکو نوشی مردوں میں زیادہ تھی اس لیے آج کل عمر میں اضافے کا زیادہ فائدہ مردوں کو ہو رہا ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سر رچرڈ پِیٹو کہتے ہیں کہ ’ تمباکو نوش اگر یہ عادت ترک نہیں کرتے تو ان میں سے نصف تمباکو کی وجہ سے مرتے ہیں۔‘

لیکن وہ اگر تمباکو کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں تو اس کے حیران کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

’وہ لوگ جو 40 برس کی معر سے پہلے سگریٹ نوشی ترک کر دیتے ہیں، خاص طور پر 40 برس کی عمر سے بہت پہلے، تو تمباکو نوشی کے خطرات میں 90 فیصد سے زیادہ کمی آ جاتی ہے۔

تمباکو نوشی میں کمی کے علاوہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی وجہ سے بھی لوگوں کی عمروں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان عوامل کے علاوہ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب مرد جس قسم کی ملازتیں کرتے ہیں وہ بھی اتنی زیادہ خطرناک نہیں رہیں، مثلاً سنہ 1920 کی دہائی میں برطانیہ میں دس لاکھ مرد کانکنی کی خطرناک صنعت سے وابستہ تھے جہاں انھیں پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

کیا خواتین کو جسمانی برتری بھی حاصل ہے؟

کیس بزنس سکول کے پروفیسر لیس ماہیو کے بقول اس بات کے امکانات کم ہیں۔

پروفیسر ماہیو اپنی گذشتہ برس کی ایک تحقیق میں کہتے ہیں کہ ’ مختلف ممالک میں مردوں اور خواتین کے درمیان صنفی فرق اتنا زیادہ ہے کہ ہم مردوں اور خواتین کی عمروں میں پائے جانے والے فرق کی کوئی جسمانی یا بائیولوجیکل توجیح پیش کر سکیں۔ اس سلسلے میں ہر معاشرہ دوسرے سے مختلف ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیکن دیگر ماہرین کہتے ہیں کہ شاید جسمانی تفریق عمر پر اثرانداز ہو تی ہے۔

متوقع عمروں کی پیشنگوئی کے اعدا وشمار کے مطابق اگر آپ تمباکو نوشی نہ کرنے والے مردوں اور ایسی ہی خواتین کا موازنہ کریں تو تب بھی خواتین کی عمریں مردوں سے زیادہ ہی دکھائی دیتی ہیں۔

اگر کوئی جسمانی فرق ہے بھی تو ابھی تک کوئی ماہر اس کی واضح نشاندھی نہیں کر سکا ہے، تاہم ماہرین کی رائے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خواتین میں پائے جانے والے کچھ ہارمونز انھیں دل کی بیماریوں سے بچائے رکھتے ہیں۔

پروفیسر پِیٹو کے بقول ’ معلوم نہیں کہ خواتین کو کیا چیز بچاتی ہے، لیکن مردوں پر خواتین کی برتری کی بہت بڑی وجہ تمباکو نوشی کا فرق ہے۔

یہ فرق کبھی کم ہوگا؟

سرکاری اعدا و شمار کے مطابق آہستہ آہستہ یہ فرق کم ہو رہا ہے۔

برطانیہ کے قومی شماریاتی ادارے کا اندازہ ہے کہ سنہ 2037 تک یہ فرق تین سال کا رہ جائے گا۔

دوسری جانب پروفیسر ماہیو نے سنہ 2014 میں جو تحقیق کی تھی اس میں ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2030 تک مرد اور خواتین ایک جتنی مدت زندہ رہ سکیں گے۔

لیکن دیگر ماہرین کہتے ہیں یہ دعوٰی ممکنات میں سے نہیں لگتا۔ ان ماہرین کے مطابق یہ پیشنگوئیاں یقینی نہیں اور آنے والے برسوں میں ہو سکتا ہے بہت کچھ بدل چکا ہو۔

مستقبل کے متوقع اعدا وشمار کی بھول بھلیوں میں بہرحال ایک بات پر سب کا اتفاق ہے اور وہ یہ کہ آنے والے کئی برسوں میں مر اور خواتین دونوں زیادہ عمریں جئیں گے اور زیادہ صحت مند زندگیاں جئیں گے۔

اسی بارے میں