’بچے دل کی بات پالتو جانوروں سے زیادہ کرتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بچے دل کی بات پالتو جانوروں سے زیادہ آسانی سے کہہ دیتے ہیں

ایک تحقیق کے مطابق وہ بچے جو بیمار ہوتے ہیں یا جن کے والدین علیحدہ ہو چکے ہوتے ہیں ان میں اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بہن بھائیوں سے زیادہ اپنے پالتو جانوروں پر اعتماد کریں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات میٹ کیسلز کہتے ہیں کہ نوجوان لوگوں کے احساسات کے متعلق پالتو جانوروں کے کردار کی اہمیت پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔

کیسلز کہتے ہیں کہ ایسے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پالتو جانور ان کے کردار کے متعلق کوئی رائے قائم نہیں کریں گے۔

انھوں نے برطانیہ میں دس سال تک 100 خاندانوں پر تحقیق کی ہے۔

کیسلز پوسٹ گریجویٹ سائکائٹری کے محقق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نوجوان بچوں کی زندگیوں میں پالتو جانوروں کے مقام کو ٹھیک طریقے سے تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کی اہمیت کے پیمانے کا بھی مکمل طور پر اندازہ نہیں لگایا گیا۔

تحقیق کے مطابق خاندانوں کے ٹوٹنے کا مطلب ہے کہ امریکہ میں بچے اپنے قدرتی باپ کی بجائے اپنے جانوروں کے ساتھ رہتے ہیں۔

امریکہ سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کے مطابق وہاں تقریباً دو تہائی بچے اپنے والد کے ساتھ رہتے ہیں جبکہ پانچ میں سے چار خاندان، جن میں سکول جانے والے بچے ہوتے ہیں، ان کے پاس پالتو جانور بھی ہیں۔

کیسلز نے کیمبرج یونیورسٹی میں سینٹر فار فیملی ریسرچ میں کی جانے والی ایک طویل تحقیق کا تجزیہ کیا جس میں دو سال کی عمر سے بڑے بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

پالتو جانوروں کی ملکیت کے متعلق معلومات اس وقت حاصل کی گئیں جب بچے 12 برس کے تھے۔

کیسلز کہتے ہیں کہ جو بچے جذباتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، جیسا کہ کسی کی وفات کے بعد صدمہ، والدین کی طلاق، عدمِ استحکام اور بیماری، وہ اپنے پالتو جانوروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

’یہ بچے مشکل وقت میں نہ صرف سہارے کے لیے اپنے پالتو جانوروں کی طرف دیکھتے ہیں بلکہ وہ ایسا اپنے بہن بھائیوں کی طرف رجوع کرنے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔

’اگرچہ انھیں اس بات کا علم بھی ہوتا ہے کہ ان کے پالتو جانور یہ نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔‘

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بچوں کا تعلق اپنے ساتھیوں کی نسبت اپنے پالتو جانوروں سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

اسی بارے میں