شیل کو قطب شمالی میں تیل کی تلاش کی مشروط اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ماحول کے تحفظ لکے لیے کام کرنے والے ادارے قطبِ شمالی میں تیل کی تلاش کے منصوبے پر تنقید کر رہے ہیں

آئل کمپنی رائل ڈچ شیل کو امریکی وزارتِ داخلہ نے قطبِ شمالی میں تیل کی تلاش کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم اب شیل کمپنی کو نگرانی کے امور سے وابستہ امریکی اداروں اور بحری علاقے میں توانائی کے شعبے ’بیورو آف اوشن انرجی مینجمنٹ‘ کی توثیق بھی درکار ہوگی۔

خیال رہے کہ شیل کی جانب سے دو سال قبل قطبِ شمالی میں تیل کی تلاش کا عمل حادثے اور ناکافی سہولیات کے باعث روک دیا گیا تھا۔

دوسری جانب ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے اور افراد اس پیش رفت پر تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

قطب شمالی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں دنیا میں تیل و گیس کا 20 فیصد ذحیرہ موجود ہے جسے ابھی تک دریافت نہیں کیا جا سکا۔

اب تک شیل کمپنی تین کھرب پونڈ سے زائد کا سرمایہ لگا چکا ہے۔

برطانیہ اور ہالینڈ کی شراکت داری سے قائم کمپنی قطب شمالی میں پانی میں 40 میٹر گہرے چھ کنوئیں بنانا چاہتی ہے۔ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس دو بحری جہاز بھی موجود ہوں گے۔

بیورو آف اوشن اینڈ انرجی کے ڈایریکٹر عابی گیل روس ہارپر کہتے ہیں کہ وہ نہات احتیاط اور سوچ بچار کے ساتھ چوک چی کے سمندر میں تلاش کا سوچا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ شیل کو اس منصوبے پر کام سے قبل امریکہ کی وفاقی حکومت اور ریاست الاسکا سے اجازت درکار ہوگی۔

سوزن مرے کا تعلق ایک ایسے گروہ سے ہے جو قطب شمالی میں تیل کی تلاش کے منصوبے کا مخالف ہے۔ ان کے خیال میں یہ فیصلہ عجلت میں لیا گیا۔

اسی بارے میں