کہکشائیں بھی ’دم گھٹنے سے مرتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ایک کہکشاں جتنے زیادہ ستاروں کو جنم دیتی ہے اس پر اتنی ہی زیادہ دھات نظر آتی ہے

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ جب کہکشائیں ستاروں کو جنم دینا بند کر دیتی ہیں تو ان کا اختتام عموماً آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ اور وہ بھی اس طرح کہ چار ارب سال کے قریب عرصے میں ان کہکشاؤں کے وجود کے لیے ضروری ٹھنڈی گیسوں کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے جس سے ان کا ’دم گھٹ جاتا ہے اور ان کی موت واقع ہو جاتی ہے‘۔

کہکشاؤں سے پراسرار بُلبلے

ستاروں کو کھانے والی کہکشائیں

ماہرینِ فلکیات نے یہ جاننے کے لیے کہ آیا کہکشاؤں کا زندگی سے موت کی طرف منتقلی کا عمل فوری ہوتا ہے یا طویل، ہزاروں کے قریب کہکشاؤں کا جائزہ لیا۔ ان میں زندہ اور مردہ دونوں طرح کی کہکشائیں شامل ہیں۔

ماہرین نے دیکھا کہ ایسی کہکشائیں جو مردہ ہو چکی ہیں ان پر دھاتوں کی سطح بہت بلند تھی۔ یہ دھاتیں تب پیدا ہوتی ہیں جب کہکشائیں ستاروں کو جنم دے رہی ہوتی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ عمل بہت دیر تک جاری رہتا ہے۔

ماہرینِ فلکیات کی یہ تحقیق ’جرنل نیچر‘ میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ کیمرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر ین جی پنگ ہیں جن کا کہنا ہے ’دھاتوں سے ستاروں کے بننے کی تاریخ کا بہت اچھی طرح سے پتا چلتا ہے۔ ایک کہکشاں جتنے زیادہ ستاروں کو جنم دیتی ہے اس پر اتنی ہی زیادہ دھات نظر آتی ہے۔ لہذٰا دھاتوں کی سطح کو دیکھ کر آپ بتا سکتے ہیں کہ کہکشاں کس طرح مردہ ہوئی۔‘

اگر کسی کہکشاں کی موت فوری اور شدت کے ساتھ ہوئی اور ستارے بننے میں مدد دینے والی ٹھنڈی گیس نے اندرونی یا بیرونی قوتوں کی وجہ سے کام کرنا ختم کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ فوراً ستارے پیدا کرنا بند کر دے گی اور اس پر دھات ویسی کی ویسی ہی رہے گی۔

قاتل کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption زندہ کہکشائیں جو ستارے بنا رہی ہیں وہ مردہ کہکشاؤں سے چار ارب سال کم عمر ہیں۔

ڈاکٹر پنگ کے مطابق ’حقیقت میں ہمیں کہکشاؤں کی قتل کی وجہ تو معلوم ہو گئی ہے لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ قاتل کون ہے۔‘

دوسری طرف اگر کہکشاں کو گیسوں کی سپلائی رک جائے لیکن وہ بچی کھچی گیسوں کو استعمال کرتی رہے تو اس پر دھات جمع ہوتی رہے گی تا وقتیکہ گیس نہ ملنے کی وجہ سے کہکشاں کا ’دم بالآخر گھٹ جائے۔‘

ایک اور ماہرِ فلکیات اینڈریا کیٹینیو نے ان شہادتوں کا موازنہ کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی اس بلند سطح سے کیا ہے جو ایسے انسان کے جسم میں پائی جاتی ہے جس کی موت گلا دبانے سے ہوئی ہو۔

’گلا دبائے جانے کے دوران مرنے والا اپنے پھیپھڑوں میں موجود تمام کی تمام آکسیجن کو استعمال کرتا ہے لیکن اس دوران اس کے جسم میں کاربن ڈائی اوکسائیڈ بھی بنتی ہے اور یہ گیس جسم میں پھنسی رہتی ہے۔ چنانچہ وہ کہکشائیں جن کا ’گلا دب جاتا ہے‘ ان پر کاربن ڈائی اوکسائیڈ بننے کے بجائے دھاتیں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

یہ وہ عناصر ہیں جو ہیلیم گیس سے بھی زیادہ وزنی ہوتے ہیں اور انھیں بڑے بڑے ستارے پیدا کرتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ زندہ کہکشائیں جو ستارے بنا رہی ہیں وہ مردہ کہکشاؤں سے چار ارب سال کم عمر ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ دورانیہ اس عرصے سے مطابقت رکھتا ہے جو کہکشاؤں کو ’گلا گھٹنے کے باعث‘ اپنی موجود گیسوں کو استعمال کرکے ختم کرنے میں صرف ہوتا ہے۔

ڈاکٹر پنگ کے مطابق یہ پہلا نتیجہ خیز ثبوت ہے کہ کہکشائیں دم گھٹنے کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہی ہیں۔ ’اب یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ کہکشاؤں کا گلا گھوٹنے والا کون ہے؟‘

ہو سکتا ہے کہ اصل قصوروار کہکشاؤں کا بہت زیادہ تعداد میں ہونا ہو۔

اگر کوئی کہکشاں کسی مصروف گروپ یا جھرمٹ کے اندر واقع ہے تو ارد گرد کے ماحول سے اس کا گیسیں جمع کرنے کا عمل درہم برہم ہو کر کہکشاں کے دم گھٹنے کا آغاز کر سکتا ہے۔

ماہرینِ فلکیات نے کہکشاؤں کے جھرمٹ کے اندر دھاتوں میں بہت زیادہ واضح فرق دیکھا ہے جس سے اس نئی تحقیق کو تقویت ملتی ہے۔

بہت بڑی کہکشاؤں میں جو تعداد میں نسبتاً کم ہیں، دھاتوں کا ایسا فرق کم ہوتا جاتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ دور دراز واقع کہکشاؤں میں شدت سے موت کا تناسب زیادہ ہے۔

اسی بارے میں