سافٹ ویئر میں خرابی فوجی طیارے کے حادثے کا باعث بنی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایئربس اے 400ایم طیارہ سپین کے شہر سویل میں نو مئی کو حادثے کا شکار ہوا تھا

سپین میں ایک فوجی طیارے کے حادثے کی تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ طیارے کے حادثے میں سافٹ ویئر کی خرابی کے شواہد ملے ہیں۔

ایک ایئربس اے 400 ایم طیارہ سپین کے شہر سویل میں نو مئی کو اپنی پہلی پرواز کے بعد ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوکر تباہ ہوگیا تھا۔

اس حادثے میں عملے کے چار ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔

یورپی طیارہ ساز کمپنی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کمپنی کے انجینیئروں نے طیارے کے ڈیٹا لاگز میں بے قاعدگیاں دریافت کی ہیں جو اس حادثے سے متعلق ہو سکتی ہیں۔

ایئربس نے ان دیگر ممالک کی فضائیہ کو بھی انتباہی پیغام بھیجا ہے جنھوں نے یہ طیارے حاصل کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ الیکٹرانک کنٹرول یونٹس (ای یو سی) کو چیک کریں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ’عملی طور پر یہ کمپیوٹر ہیں اور ہر انجن کا حصہ ہیں۔

’ای سی یو کا کام پائلٹ کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے انجن کو کنٹرول کرنا ہے کہ وہ عمل سرانجام دے جو پائلٹ اس کو کرنے کے لیے کہہ رہا ہے۔

’آپ اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ جیسا ہم نے ای سی یو کو دوبارہ چیک کر نے کے لیے کہا ہے، اسی جانب ہماری توجہ ہے۔‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی کے تفتیش کاروں کی جانب سے ایئربس کی فلائٹ آپریشن ٹیم سے معلومات حاصل کرنے اور فلائٹ ایم ایس این 23 کے گراؤنڈ ٹیسٹ کے دوران حاصل کیے جانے والے لوگز اکٹھا کرنے کے بعد خرابی کی نوعیت سامنے آئی ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ خرابی طیارے کے ڈیزائن کے بجائے اس میں انسٹالڈ سافٹ ویئر کے باعث پیدا ہوئی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اے400ایم کے حادثے کے بعد ایسے دیگر طیاروں کو پرواز سے روک دیا گیا ہے

اے400ایم طیارے یورپ کے نیٹو کے پارٹنروں کو فوجیوں اور اسلحے کی فراہمی کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

سنہ 2013 میں ایک معاہدے کے مطابق ان کی قیمت دو ارب 30 کروڑ ڈالر تھی۔

تاہم یورپین وزرائے خارجہ نے ایئر بس کو تاخیر اور قیمت میں ردوبدل کے باعث زیادہ فنڈز دیے تھے۔

ایسا پہلا طیارہ اگست 2014 میں فرانس کو فراہم کیا گیا تھا۔

لیکن حالیہ حادثے کا مطلب ہے کہ یہ طیارہ خریدنے والے ممالک بیلجیئم، برطانیہ، فرانس، جرمنی، لکسمبرگ، سپین اور ترکی کو ان طیاروں کی فراہمی میں مزید تاخیر کا سامنا کرنا ہو گا۔

برطانیہ کی وزارت دفاع کی ترجمان کا کہنا ہے: ’جب تک اے400ایم کے حادثے کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آتیں، رائل ایئر فورس اپنے اے400ایم ایٹلس طیارے استعمال نہیں کرے گی۔‘

ایئر بس کی جانب سے طیارے کے حادثے کی تفتیش کے علاوہ سپین کے دفاعی اہلکار بھی اس کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم وہ مزید تفصیلات فراہم نہیں کر سکے۔

کیپٹن مگوئیل گونزالیز مولینا کہتے ہیں: ’عدالت نے عدالتی تحقیقات کی رازداری کے بارے میں فیصلہ سنایا ہوا ہے۔ اس لیے (سپین کی) وزارت دفاع ایسا کوئی تبصرہ نہیں کرے گی جس سے تحقیقات متاثر ہوں۔‘

اسی بارے میں