صارفین کو دھوکہ دینے پر پے پال پر جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’پے پال‘نے کہا ہے کہ اس کی کریڈٹ سکیم صارف کے تحفظ کاخیال رکھتی ہے

آن لائن خریداری پر قیمت کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جانے والی ویب سائٹ ’پے پال‘ امریکہ میں صارفین سے دھوکہ دہی کے الزامات کے بعد جرمانے اور زرِ تلافی کی مد میں ڈھائی کروڑ ڈالر ادا کرنے پر تیار ہوگئی ہے۔

حکومت کے ایک نگران ادارے نےاس بات پر ’پے پال‘ کی مذمت کی ہے کہ ویب سائٹ نے اپنے صارفین کو بتائے بغیر انھیں کریڈٹ کارڈ جیسی ایک سکیم میں شامل کر دیا۔

ادارے نے کہا کہ ’پے پال‘ نے دیگر غیر قانونی کاموں کے علاوہ بِلوں پر پیدا ہونے والے تنازعات کو بھی بھونڈے طریقے سے نمٹایا۔

’پے پال‘ نے جو ’ای بے‘ کی ملکیت ہے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی لیکن معاملات کو حل کرنے کی پیشکش کی ہے۔

فریقین قانونی طور پر طے شدہ معاملات کے پابند صرف تب ہوں گے جب جج اس معاہدے کی منظوری دیں گے۔

’پے پال کریڈیٹ‘ ایک سکیم ہے جو صارفوں کو اپنے بِل یک مشت ادا کرنے کے بجائے انھیں کئی مہینوں کے دورانیے میں ادا کرنے کی اجازت دیتی ہے تاہم صارفین کو یہ سہولت استعمال کرنے پر سود دینا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اگر کوئی صارف وقت پر قسط ادا نہ کر پائے تو اسے اضافی رقم بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔

’پے پال‘ پر الزام ہے کہ اس نے اس سروس کے نئے ممبران کے لیے کریڈیٹ کارڈ سکیم کو ایسا آپشن بنا دیا جس کا آغاز نئی رکنیت کے ساتھ خود بخود ہو جاتا تھا لیکن صارف کو یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہوتی تھی۔

امریکہ میں صارفین کے مالیاتی تحفظ کے بیورو کے ڈائریکٹر رچرڈ کورڈرے کے خیال میں ’دسیوں ہزار صارفین نے جو پے پال پر اکاؤنٹ بنانا یا آن لائن خریداری کرنا چاہتے تھے آگاہ ہوئے بغیر ہی کریڈٹ سکیم کے لیے ہی سائن اپ کر لیا۔ لیکن کچھ صارفوں کا اس کی خبر اس وقت ہوئی جب تاخیر سے ادائیگی کا کہہ کر ان سے اضافی فیس مانگی گئی یا انھیں بتایا گیا کہ وہ پے پال کے مقروض ہیں۔‘

’پے پال‘پر یہ الزام بھی ہے کہ اپنے اشتہار میں وعدے کے برخلاف اس نے خریداری پر دس ڈالر کی پیشگی رقم بھی لوگوں کو نہیں دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’پے پال‘ کی مالک کمپنی ’ای بے‘ ہے

رچرڈ کورڈرے کے مطابق ’پے پال، ادائیگیوں کی تفصیلات کے مناسب اندارج میں بھی ناکام ہوئی اور کئی ادائیگیوں کا پتہ نہیں چل سکا جبکہ صارفوں اور کمپنی یا فروخت کندگان کے درمیان بلوں پر تنازع بھی بھونڈے پن کا شکار ہوا۔‘

مجوزہ معاہدے کے تحت کمپنی صارفوں کی تلافی کے لیے پندرہ ملین ڈالر کا فنڈ قائم کرے گی جبکہ مالیاتی بیورو کو دس ملین ڈالر کا جرمانہ بھی ادا کیا جائے گا۔

’پے پال‘نے جس کا دفتر کیلی فورنیا میں ہے، کہا ہے کہ اس کی کریڈٹ سکیم صارف کے تحفظ کاخیال رکھتی ہے۔ ’ہماری توجہ چیزوں کو آسان بنانے، واضح کرنے اور اعلیٰ کوالٹی کی اشیاء فراہم کرنے پر ہے جو صارفوں کے لیے مفید ہوں اور قوانین سے مطابقت بھی رکھتی ہوں۔‘

’پے پال‘ کریڈٹ سکیم امریکہ سے باہر کے صارفین کے لیے بھی ہے۔

برطانیہ میں فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی کی ایک ترجمان کا کہنا تھا وہ یہ بات نہیں بتا سکتیں کہ آیا برطانیہ میں بھی کوئی تفتیش ہو رہی ہے یا نہیں۔ تاہم ’پے پال‘ کو مزید کسی تفتیش کی توقع نہیں۔

فرم کی ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’برطانیہ میں پے پال کے ممبران اس صورتِ حال سے متاثر نہیں ہوئے‘۔

ایسا دوسری بار ہوا ہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکی حکومت نے ’پے پال‘ کو جرمانہ کیا ہو۔

مارچ میں کمپنی امریکی محکمۂ خزانہ کو ان دعوؤں کے بعد سات اعشاریہ سات ملین ڈالر دینے پر رضا مند ہوگئی تھی کہ اس نے ایسی رقوم کی ادائیگی کی اجازت دی جس سے سوڈان، ایران اور کیوبا پر لگی امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوئی۔

اسی بارے میں