’حمل کے دوران پیراسٹامول زیادہ نہ کھائیں‘

پیراسٹامول تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ پیراسٹامول کا زیادہ استعمال ٹیسٹوسٹیرون ہارمونز کی پیداوار متاثر کرتا ہے

ایک تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین کو چاہیے کہ وہ پیراسٹامول کے زیادہ عرصے تک استعمال سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے ان کے بچے کی تولیدی صحت متاثر ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر پیراسٹامول کا استعمال سات دن تک کیا جائے تو یہ ٹیسٹوسٹیرون نامی ہارمون کی پیداوار روک دیتا ہے جو کہ مردوں کے تولیدی اعضا کی نشونما کے لیے بہت اہم ہے۔

این ایچ ایس کی ہدایت کے مطابق حمل کے دوران پیراسٹامول صرف اس لیے ہی لی جائے جب اس کی اشد ضرورت ہو اور وہ بھی بہت تھوڑے عرصے کے لیے۔

جس کسی کو بھی لمبے کے علاج کی ضرورت ہو وہ پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرے۔

برطانیہ کی دی میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی کا کہنا ہے کہ پیراسٹامول کو عموماً ان درد ختم کرنے والی دواؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو حاملہ خواتین اشد ضرورت کے دوران لے سکتی ہیں۔

یہ اس طرح کے بخار کے علاج کے لیے بھی ضروری ہے جس زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔

لیکن ماضی کی تحقیق میں اس طرح کے اشارے ملتے رہے ہیں کہ پیراسٹامول سے رحمِ مادر میں تولیدی مسائل شروع ہو سکتے ہیں۔

مثلاً ڈینمارک کی ایک تحقیق سے سامنے آیا کہ جو خواتین درد کی یہ دوا لے رہی تھیں ان کے لڑکوں میں خصیہ کے مسائل ہونے کے امکان زیادہ تھے جو بعد میں تولیدی مسائل میں بدل سکتے تھے۔

اس کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں نے ایسے حالات پیدا کیے جو کہ ممکنہ طور پر حمل کے قریب تھے۔ چوہوں میں انسانی جنین کے ٹشو ڈالے گئے اور انھیں سات روز تک پیراسٹامول دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ جن چوہوں کو پیراسٹامول دی گئی تھی ان کے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار کم تھی بہ نسبت ان کے جن کو ’ڈمی ڈرگ‘ دی گئی تھی۔

لیکن جب یہی دوا ایک دن کے لیے دی گئی تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

تحقیق کے رہنما ڈاکٹر راڈ مچل کہتے ہیں کہ ’اس تحقیق سے پہلے سے موجود شواہد کو تقویت ملی ہے کہ حمل کے دوران پیراسٹامول کا لمبے عرصے تک استعمال لڑکوں میں تولیدی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔‘

’ہم حامہ عورتوں کو مشورہ دیں گے کہ وہ درد کی دوا کے متعلق حالیہ ہدایات پر عمل کریں کہ جہاں تک ممکن ہو تھوڑے عرصے تک کم اثر کرنے والی دوا لی جائے۔‘

تحقیق کار یہ بھی کہتے ہیں کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ کس حد تک ان نتائج کا اطلاق انسانوں پر ہوتا ہے، لیکن ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اخلاقی وجوہات کی بنا پر وہ یہ تحقیق حاملہ خواتین پر نہیں کر سکتے۔

تاہم دی رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کا کہنا ہے کہ پیراسٹامول ایک اہم علاج ہے اور اس کو مکمل طور پر فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

ادارے کے ترجمان ڈاکٹر مارٹن وارڈ۔پلاٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ تحقیق خاص طور پر پیراسٹامول کے کم از کم سات دن سے زیادہ استعمال کے متعلق ہے۔‘

’مثال کے طور پر ایسے مواقع آتے ہیں کہ جب بخار کو دور کرنے کے لیے اس کی ایک یا دو خوراکیں لینا پڑتی ہیں۔

’حمل کے دوارن بخار جنین کی نشونما کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔ سو پیراسٹامول کی کچھ مقدار کبھی کبھار ضروری ہوتی ہے۔‘

تاہم دی رائل کالج آف آبسٹیٹریشیئنز اینڈ گائنی کالوجسٹس نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔

کالج کی سائنس کی مشاورتی کمیٹی کی ڈاکٹر صدف غائم مغامی کہتی ہیں کہ ’یہ تحقیق بہت ٹھوس ہے۔ تاہم یہ بات سامنے رکھنا بہت ضروری ہے کہ یہ تحقیق جانوروں پر کی گئی ہے اور نتائج کو ان سفارشات میں بدلنا کہ حاملہ خواتین کے لیے کیا محفوظ یا غیر محفوظ ہے ممکن نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں