’مزدور سسک سسک کر مر رہے ہیں‘

Image caption فیکٹری مالکان حفاظتی معیار پر زیادہ توجہ نہیں دیتے

سپریم کورٹ میں گذشتہ نو ماہ سے صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں پتھر پیسنے والی فیکٹریوں میں ایک پراسرار بیماری کے باعث ہلاکت کے سلسلے میں سماعت چل رہی ہے۔

درخوست گزار نوجوان وکیل اسامہ خاور ہیں جنھوں نے اپنے گاؤں میں اس بیماری کی نشاندہی کی اور وہ اپنی درخواست کے ذریعے ملک میں لیبر قوانین اور قواعد میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

تاہم اس کیس کے وکلا کا کہنا ہے کہ متعلقہ صوبائی محکموں نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کو کئی بار ٹالنے کی کوشش کی ہے۔

’پتھر پیسنے کے کارخانوں سے سینکڑوں متاثر‘

محمد عبد اللہ کو گذشتہ برس دسمبر میں ڈاکٹروں نے بتا دیا تھا کہ ان کے پھیپھڑوں میں جان نہیں رہی۔ ان کا رنگ پیلا سا ہے اور بولتے بولتے انہیں کھانسی کے دورے پڑتے ہیں۔

شام کا وقت ہے اور اپنے گھر کے صحن میں ایک چارپائی پر اپنے تین ہمسایوں کے ساتھ بیٹھے ہیں جو عبداللہ کی طرح پھیپھڑوں کی ایک خاص بیماری کا شکار ہیں۔ ضلع گوجرانوالہ میں اسے پاؤڈر والی بیماری کہتے ہیں۔ انگریزی میں اس کا نام سلیکوسس ہے اور یہ لاعلاج ہے۔

Image caption ضلع گوجرانوالہ میں اسے پاؤڈر والی بیماری کہتے ہیں۔ انگریزی میں اس کا نام سلیکوسس ہے اور یہ لاعلاج ہے

’ہمارا گاؤں تو ویران ہو گیا ہے۔ میرے بھائی اور دو بہنوئی اس بیماری سے فوت ہو گئے۔ اب میری باری ہے۔ میں تو موت کا انتظار کر رہا ہوں۔‘

عبداللہ ان کے رشتہ دار، اور ان کے گاؤں کے کئی افراد نے کئی سال پتھر پیسنے والی فیکٹریوں میں کام کیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر پتھر پیسنے سے جو پاؤڈر بنتا ہے وہ پھیپھڑوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔

وکیل اسامہ خاور کا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے۔گوجرانوالہ کے چار گاؤں میں اپنی ذاتی تحقیق سے معلوم ہوا کہ 18 افراد اس بیماری سے گذشتہ دو برس میں ہلاک ہوئے ہیں۔ وہ اس معاملے کو پھر سپریم کورٹ تک لے کر گئے، جہاں اس وقت کے چیف جسٹس نے اسے انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر اس کا از خود نوٹس لیا تھا۔

اسامہ خاور کا کہنا ہے کہ نو ماہ کی مقدمے کے دوران ہی انھیں اس مسئلے کے پیمانے کا اندازہ ہوا۔

’مقدمے کے دوران مختلف محکموں کو نوٹس جاری ہوئے اور اس طرح پتہ چلا کہ یہ مسئلہ صرف گوجرانوالہ کا نہیں ہے، یہ فیکٹریاں پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور ملک بھر میں مزدور سلیکوسس کے باعث سسک سسک کر مر رہے ہیں۔‘

سپریم کورٹ نے اب ڈپٹی اٹارنی جنرل سجاد الیاس بھٹی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا مقصد اس کیس سے متعلق سفارشات بنانا ہے۔

اس کمیٹی میں چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لیبر، ماحول اور کان کنی کے محکموں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

کمیٹی کو فراہم کی گئی رپورٹوں کے مطابق صوبہ سندھ میں 258 ایسی فیکٹریاں ہیں جبکہ سلیکوسس کا کوئی مریض نہیں ہے۔ بلوچستان میں 58 فیکٹریاں ہیں، اسلام آباد میں 73 اور خیبر پختونخوا میں 437، جبکہ پنجاب میں ایسے فیکٹریوں کی تعداد 781 ہے اور سلیکوسس سے 54 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم اسامہ خاور کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف پنجاب میں تقریباً سو سے زیادہ مزدور اس بیماری کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین سو سے زیادہ بیمار ہیں۔

Image caption محمد عبد اللہ کو گذشتہ برس دسمبر میں ڈاکٹروں نے بتا دیا تھا کہ ان کے پھیپھڑوں میں جان نہیں رہی

مزدوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے آئی ایل او کے اہلکار سعد گیلانی نے بتایا کہ پاکستان میں کام کاج کے حوالے سے صحت اور حفاظت کے حوالے سے قوانین موجود نہیں ہیں اور جو ہیں، وہ ملک میں کام کرنے والے زیادہ تر مزدوروں کی مدد نہیں کر سکتے۔

’پاکستان میں فیکٹریز ایکٹ اور دکانوں سے متعلق ایکٹ اس مسئلے کے لیے ہیں اور وہ صرف 18 فیصد مزدوروں کو سوشل سکیورٹی دے سکتے ہیں، کیونکہ یہ 18 فیصد مزدور ہی باضابطہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ باقی عارضی طور پر غیر رسمی طور پر کام کرتے ہیں۔‘

جس فیکٹری میں محمد عبداللہ کے مرنے والے بہنوئی کام کرتے تھے، میں نے اس کا دورہ کیا۔ یہ گوجرانوالہ شہر کے پاس واقع ہے اور اس کے مالک ضیا ڈوگر کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے مزدوروں کو تمام سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

’میں نے اپنے مزدوروں کو سوشل سکیورٹی کارڈ فراہم کیا، تو ان کو پنجاب کے لیبر محکمے سے وہ سہولیات ملتی ہیں۔ اور پھر انھیں منظور شدہ ماسک، دستانے اور لمبے بوٹ بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ میری فیکٹری میں ابھی تک ایسی کوئی بیماری نہیں ہوئی۔‘

تاہم میں ایسے ہی ایک اور فیکٹری بھی گئی جہاں مزدوروں نے سرجری والے ماسک پہن رکھے تھے ، جن کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ ان سے پتھروں سے بننے والی باریک دھول آسانی سے پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتی ہے۔

Image caption ضیا ڈوگر کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے مزدوروں کو تمام سہولیات فراہم کرتے ہیں

محمد عبداللہ کے بچنے کی شاید کوئی امید باقی نہیں رہی، اور سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اب تک صوبائی حکومتوں نے بھی بظاہر ان ہلاکتوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اسامہ خاور کو اب بھی امید ہے کہ وہ قانون کے ذریعے تبدیلی لا سکتے ہیں۔

ان کی سفارشات میں ان فیکٹریوں میں معقول حفاظتی تدابیر، بنیادی صحت کے سہولیات میں پھیپھڑوں کے ڈاکٹر اور ٹیسٹ کے آلات کی موجودگی، غیر رسمی مزدوروں کے رجسٹریشن اور موجودہ قوانین میں تبدیلی شامل ہیں۔

تاہم اسامہ کے ساتھی وکیل کامران شیخ کا کہنا ہے کہ ’اسامہ نے خود ان مزدوروں کے ٹیسٹ کروائے، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع کا دورہ کیا تاکہ وہ سلیکوسس کے مریضوں کی تصدیق کرے۔ لیکن بھارت میں یہ کام تو قومی انسانی حقوق کی کمیشن نے کیا تھا۔ اور پاکستان میں ایسے کمیشن کی منظوری 2012 میں دی گئی تھی لیکن ابھی تک قائم نہیں ہوا۔‘

اسی بارے میں