’ایڈ بلاک پلس‘ نے اپنے خلاف دائر مقدمہ جیت لیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ سروس صرف اسی صورت میں ویب سائٹس پر اشتہاروں کی نمائش ہونے دیتی ہے جب صارف نے اس کی اجازت دی ہو۔ بصورتِ دیگر ’ایڈ بلاک پلس‘ اشہارات کو روک دیتی ہے

ویب سائٹس پر اشتہاروں کو روکنے والی سروس ’ایڈ بلاک پلس‘ نے پانچ ہفتوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے خلاف دائر کیا جانے والا مقدمہ جیت لیا ہے۔

یہ سروس صرف اسی صورت میں ویب سائٹس پر اشتہاروں کی نمائش ہونے دیتی ہے جب صارف نے اس کی اجازت دی ہو۔ بصورتِ دیگر ’ایڈ بلاک پلس‘ اشہارات کو روک دیتی ہے۔

جرمنی کے نشریاتی اداروں آر ٹی ایل اور پروسائبین سیٹ 1 نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا ’ایڈ بلاک پلس‘ جو براؤزر کا ایک پلگ اِن ہے، مسابقت کے خلاف ہے اور اس سے صارفوں کو مفت مواد فراہم کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

تاہم میونخ کی ایک عدالت نے ’ایڈ بلاک پلس‘ کے مالک آئیو کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہم اس فیصلے کے خلاف ایک ممکنہ اقدام پر غور کر رہے ہیں اور اپیل کے امکانات کا اندازہ لگا رہے ہیں: آر ٹی ایل کے ترجمان

جرمنی کی اس کمپنی کے ترجمان بین ولیمز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اس معاملے میں لوگوں کی شرکت کی نوعیت اور دعووں کے تناظر میں‘ یہ اب تک کی سب سے بڑی نزع تھی جو ان کے سامنے آئی۔

’یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ بڑے ناشروں نے ہمارے پلگ اِن کے خلاف مقدمہ کیا ہے۔‘

’عدالت کا شکریہ کہ اس نے صارفین کا ساتھ دیا۔ لہذا ہمیں یہ کہتے ہوئے خوشی ہے کہ ایڈ بلاک پلس اپنے صارفوں کو انٹرنیٹ کے تجربے پر کنٹرول رکھنے کے لیے یہ آلہ فراہم کرتا رہے گا۔‘

’ساتھ ساتھ ہم ناشروں، اشتہار دینے والوں اور انٹرنیٹ کا مواد تیار کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ایسے اشتہاروں کی حوصلہ افزائی ہو جن کا مزاج مداخلت کارانہ نہیں۔ ہم اشتہاروں کو بہتر بنانے کے طریقوں کی تلاش اور انٹر نیٹ کے زیادہ پائیدار ماحولی نظام کے لیے کوشش کرتے رہیں گے۔‘

مقدمہ ہارنے والی کمپنی آر ٹی ایل کے ایک ترجمان کے مطابق ’ہم اس فیصلے کے خلاف ایک ممکنہ اقدام پر غور کر رہے ہیں اور اپیل کے امکانات کا اندازہ لگا رہے ہیں۔‘