قدیم دور کے انسان کی نئی نوع کی دریافت

Image caption اس نوع کے انسانوں کے جبڑے جہاں مضبوط تھے وہیں ان کے دانت بہت چھوٹے تھے

سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں افریقی ملک ایتھیوپیا سے قدیم دور کے انسان کی ایک نئی نوع کی باقیات ملی ہیں۔

ایتھیوپیا کے علاقے آفار سے ملنے والی ان باقیات میں جبڑے کی ہڈیاں اور دانت شامل ہیں جو 33 سے 35 لاکھ سال پرانے ہیں۔

اس تحقیق کو نیچر نامی جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔

سائنسدانوں نے اس نئی نسل کو جو سائنسی نام دیا ہے اس کا مطلب آفاریوں کی زبان میں ’قریبی رشتہ دار‘ بنتا ہے۔

یہ باقیات چار افراد کی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ لنگور اور انسان دونوں کی ملی جلی شکل کے حامل تھے۔

Image caption یہ انسانی باقیات ایتھیوپیا کے علاقے آفار سے ملی ہیں

اس تحقیق کے سرخیل اور کلیولینڈ میں نیچرل ہسٹری میوزیم کے کیوریٹر ڈاکٹر یوہینس ہیل سلاسی نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم نے ان دانتوں اور اوپری اور نچلے جبڑے کا تفصیلی جائزہ لیا اور ہمیں واضح فرق نظر آیا۔‘

ان کے مطابق جہاں اس نئی نوع کے انسانوں کے جبڑے مضبوط تھے وہیں ان کے دانت اب تک ملنے والی تمام قدیم انسانی باقیات کے مقابلے میں بہت چھوٹے تھے۔

ان باقیات کے دور کے تعین کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ زمین پر اس زمانے میں پائی جانے والی چار انسانی انواع میں سے ایک تھی۔

ان انواع میں سب سے مشہور ’لوسی‘ تھے جو 29 سے 38 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جاتے تھے اور ابتدائی طور پر انھیں آج کے انسان کا جدِامجد سمجھا جاتا تھا۔

تاہم کینیا میں سنہ 2001 میں ایک نئی نوع اور پھر چاڈ میں ایک اور نوع کے انسانوں کی باقیات سامنے آئیں۔

اسی بارے میں