’وہ چہرہ جس کے ساتھ میں بڑی ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک خاتون جس کا بھائی ایک حادثے میں مارا گیا تھا پہلی مرتبہ اس شخص سے ملی ہے جسے اس کے مرنے والے بھائی کا چہرہ دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے مشہور ’چینل 9‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کے کیمرے نے اس جذباتی لمحے کو محفوظ کیا ہے جب ربیکا ایورسانو نے اپنے بھائی کے چہرے کو ایک مرتبہ پھر دیکھا اور اپنے ہاتھ سے محسوس کیا۔

جس شخص کو ربیکا کے بھائی کا چہرہ لگایا گیا ہے ان کا نام رچرڈ نورس ہے جو امریکہ کے رہنے والے ہیں جن کا چہرہ 15 برس قبل بندوق کی گولی لگ جانے سے بری طرح مسخ ہو گیا تھا۔

اپنی قسم کی نہایت جدید سرجری سے پہلے رچرڈ شاز و نادر ہی گھر سے نکلتے تھے اور عملی طور پر تخلیے میں زندگی گزار رہے تھے۔

’المناک نقصان‘

ٹرانسپلانٹ کے مرحلے سے گزرنے والے لوگ عموماً اس شخص کے گھرانے سے نہیں ملتے جس کا عطیہ کیا ہوا عضو انھیں لگایا جاتا ہے۔

تاہم اپنی نوعیت کی اس انوکھی ملاقات میں امریکی ریاست میری لینڈ کی ربیکا ایورسانو ٹی وی کے کیمروں کے سامنے اس شخص کے رو برو آن کھڑی ہوئیں جنھیں ان کے بھائی کے چہرے کے ٹشوز اور ساخت دی گئی ہے۔

ربیکا نے رچرڈ کے چہرے کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا ’یہ وہ چہرہ ہے میں جس کے ساتھ بڑی ہوئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ہمیں بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ ہم مسٹر نورس کی مدد کر سکے۔‘

ربیکا کے بھائی جوشوا ایورسانو 21 برس کی عمر میں ٹریفک کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک دوسرے چینل ’سی ٹی وی‘ سے بات کرتے ہوئے جوشوا کی والدہ گِون ایورسانو کا کہنا تھا کہ ’اپنے بیٹے کا چہرہ کسی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ مشکل تھا لیکن میرا خیال ہے کہ میرا بیٹا یہی چاہتا کہ اس کا چہرہ کسی اور کے کام آ جائے۔‘

’ہم جتنا اپنے بیٹے کو جانتے ہیں وہ یہی چاہتا کہ اگر وہ اپنی زندگی نہیں جی سکا تو کوئی دوسرا اپنی زندگی ضرور جی سکے۔‘

’مسٹر نورس سے مل کر اور ان سے بات کر کے ہمیں یہی محسوس ہوا کہ ہم نے مسٹر نورس کی شکل میں اپنا بیٹا دیکھ لیا ہے۔‘

اگرچہ ہمیں اپنے جوان بیٹے کی موت کا اتنا بڑا صدمہ برداشت کرنا پڑا لیکن ہمیں بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ ہم مسٹر نورس کی مدد کر سکے۔‘

مسٹر نورس کا ٹرانسپلانٹ تین سال قبل یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ہسپتال میں ایک طویل آپریشن میں کیا گیا تھا جو چھتیس گھنٹے جاری رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dan Winters GQ
Image caption مسٹر نورس اپنے ہونٹ اور ناک گنوا بیٹھے تھے اور وہ اپنا منہ بھی زیادہ ہلا نہیں پاتے تھے

مسٹر نورس حادثاتی طور پر بندوق چل جانے سے اپنے ہونٹ اور ناک گنوا بیٹھے تھے اور وہ اپنا منہ بھی زیادہ ہلا نہیں پاتے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چہروں کو بحال کرنے میں مدد کرنے والی برطانوی فلاحی تنظیم ’چینجِنگ فیسز‘ کے بانی جیمز پاٹرج کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سے پہلے کسی ایسے گھرانے کے بارے میں نہیں سنا تھا جو اس شخص سے ملا ہو جسے ان کے مرے ہوئے عزیز کا چہرہ لگایا گیا ہو۔

برطانیہ کی پلاسٹک سرجری ایسوسی ایشن کے سابق صدر مسٹر بیری جونز کے مطابق اس قسم کے معاملے میں بہت سے چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

’میرا خیال ہے کہ مرے ہوئے شخص کی فیملی کے لیے یہ بڑا مشکل فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ عضو کا عطیہ وصول کرنے والے شخص سے ملیں اور خاص طور پر جب عطیے میں ان کے عزیز کا چہرا دیا گیا ہو۔‘

مسٹر نورس کے معاملے میں یہ لمحہ عطیہ دینے والے کے گھرانے کے لیے ایک خوشی کا لمحہ ثابت ہوا، تاہم ضروری نہیں کہ مرنے والوں کے عزیزوں کا ردعمل ہمیشہ ایسا ہی ہو۔‘

اسی بارے میں