دولت اسلامیہ کی جانب سے سائبر حملے میں اضافے کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانسیسی ٹی وی سٹیشن، ٹی وی5 بھی سائبر حملے کا شکار ہوا تھا

ایک سکیورٹی کمپنی نے کہا ہے کہ رضاکار ہیکروں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد میڈیا کمپنیوں اور ویب سائٹوں پر حملہ کر کے دولت اسلامیہ کے پیغامات پھیلانے میں تعاون کر رہی ہے۔

فائر آئی سکیورٹی کمپنی کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے حامی موقعے کی مناسبت سے حملوں اور انتہائی پیچیدہ آپریشن کے ذریعے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

اس سال فرانسیسی ٹی وی سٹیشن، ٹی وی5 پر ہونے والا حملہ اس قسم کا بڑا حملہ تھا۔ اس کے علاوہ دوسرے میڈیا گروپ بھی حملے کی زد میں آئے ہیں۔

فائر آئی کا کہنا ہے کہ حملے کی وسعت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کے پس پشت کون ہے۔

فائر آئی میں چیف ٹیکنالوجی افسر ڈیوڈ مرکل نے کہا: ’بہت سے لوگ شام جا کر دولت اسلامیہ کے لیے لڑتے ہیں لیکن اس کا دوسرا راستہ بھی ہے کہ آپ گھر پر رہیں اور وہیں سے لڑائی کریں۔

’اگر آپ کے پاس انٹرنیٹ کنکشن ہے اور آپ کے پاس اس طرح کی صلاحیت موجود ہے تو آپ ایسا ضرور کر سکتے ہیں۔‘

مسٹر مرکل نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ جنگ زدہ علاقے میں دشمنوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے سائبر حملے کا سہارا لیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سائبر حملہ آور عام طور پر ویب سائٹ پر پروپیگنڈا مواد ڈال دیتے ہیں

تاہم انھوں نے کہا کہ اس بات کے بھی شواہد ہیں کہ ایسے لوگ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں جو دولت اسلامیہ کی جانب سے سائبر حملے کر رہے ہیں اور ان کا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان حملوں کو براہ راست دولت اسلامیہ سے جوڑ پانا مشکل ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ ان کے نام پر ہو رہے ہیں۔

فائر آئی کا کہنا ہے کہ اس نے چھوٹی کمپنیوں اور امریکی ٹی وی سٹیشنوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور دنیا بھر میں دوسری جگہوں پر دولت اسلامیہ سے تحریک پا کر کیے جانے والے حملے دیکھے ہیں۔

مسٹر مرکل نے کہا کہ ’فرانسیسی ٹی وی سٹیشن ٹی وی5 پر کیا جانے والا حملہ یقینی طور پر دولت اسلامیہ کے حامیوں کی جانب سے کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ٹی وی نشریات کئی گھنٹے تک متاثر رہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے میں کئی گھنٹے تاخیر کی، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسے مرکزی طور پر نہیں کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ بہت سی ویب سائٹوں کو دولت اسلامیہ کے ویڈیوز اور پیغامات سے بدل دیا گیا۔

مرکل نے کہا کہ اس طرح کے حملوں میں ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب یہ پیشین گوئی کر پانا بہت مشکل ہے کہ کہ اب وہ کہاں حملہ کریں گے یا وہ کس کے پیچھے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سکیورٹی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ حملے اس قدر مختلف نوعیت کے ہیں کہ ان کے بارے میں پہلے سے کچھ بتا پانا بہت مشکل ہے

سکیورٹی کمپنی پالو آلٹو نیٹ ورکس کے چیف ٹیکنالوجی افسر رک ہاورڈ نے کہا: ’اس جنگجو گروپ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں بہت تنوع ہے۔‘

بہت سی ہیکنگ تو صرف اس وجہ سے ہوئی کہ ویب سائٹ بناتے وقت اس میں کوئی خامی رہ گئی تھی اور اس کا فائدہ اٹھا لیا گیا۔ جبکہ دوسرے قسم کی ہیکنگ بہت پیچیدہ ہے اور یہ اس ویب سائٹ پر کافی وقت گزارنے کے بعد معلومات حاصل کر کے کی جاتی ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’دولت اسلامیہ جیسی تنظیموں کے لیے سائبر حملے کرنے والوں اور بندوق برداروں کے درمیان تمیز کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں اور پروپیگنڈا کرنے والوں میں فرق ہے۔‘

اسی بارے میں