’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ میں سائنسی تحقیق کا دوبارہ آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بدھ کو ہونے والے ٹکراؤ میں شعاعوں کی توانائی 13 کھرب الیکٹرو وولٹس تک بڑھائی گئی

’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ (ایل ایچ سی) نے دو برس کے وقفے کے بعد سائنسی تحقیق کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

سائنسدان اب ڈیٹا کی اس پہلی قسط کے منتظر ہیں جو انھیں اس سائنسی لیبارٹری میں بنے ہوئے متوازی پائپوں میں ذرات کے ٹکراؤ سے حاصل ہونے والا ہے۔

رواں برس اپریل میں 2013 کے بعد پہلی مرتبہ مشین کی سرنگ میں پروٹونز نے چکر لگانا شروع کیا اور بدھ کو ایل ایچ سی کے اندر ان کا ٹکراؤ اس سے دوگنی توانائی سے ہوا جس سے یہ 2010 سے 2013 کے دوران ٹکراتے رہے تھے۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس سے انھیں سٹینڈرز ماڈل سے ہٹ کر ’نئی طبیعیات‘ کی جھلک دکھائی دے گی۔

سوئٹزرلینڈ اور فرانس کی سرحد پر سو میٹر کی گہرائی میں بنائی گئی 27 کلومیٹر طویل سرنگ میں قائم لارج ہیڈرون کولائیڈر میں سائنسدان ابتدائے کائنات کے رازوں کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وہ ذرات کو آپس میں ٹکرا کر اس عنصر کی تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے تخلیق کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکےگا۔

بدھ کو ہونے والے ٹکراؤ میں شعاعوں کی توانائی 13 کھرب الیکٹرو وولٹس تک بڑھائی گئی جب کہ ایل ایچ سی کے پہلے آپریشن میں یہ آٹھ کھرب الیکٹرو وولٹس تھی۔

Image caption 27 کلومیٹر طویل سرنگ میں قائم لارج ہیڈرون کولائیڈر میں سائنسدان ابتدائے کائنات کے رازوں کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں

اس ٹکراؤ کے نتیجے میں جو ڈیٹا حاصل ہوگا اس سے سائنسدان اپنا رکا ہوا کام شروع کر سکتے ہیں۔

ایل ایچ سی کے نگران ادارے سرن کے سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر جنرل رالف دائتر ہیوئر نے انجینیئروں اور سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ’یہ ایک شاندار نتیجہ ہے۔‘

تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ اس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ ’یہ آج کل میں پتہ نہیں چل جائے گا۔‘

سرن میں تحقیق کے شعبے کے سربراہ سرجیو برتولوسی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس دنیا کا بہترین جہاز اور بہترین عملہ ہے اور ہم اب نئے سفر پر نکلنے کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس سفر کے دوران ایک وسیع ان دیکھے علاقے میں جا رہے ہیں اور بہت سی دلچسپ اور حیران کین چیزیں ہماری منتظر ہو سکتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جولائی 2012 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ منصوبے سے وابستہ سائنسدانوں نے ہگس بوسون یا ’گاڈ پارٹیكل‘ جیسے ذرے کی دریافت کا دعویٰ کیا تھا

ماہرِ طبیعیات پارٹیکل فزکس کے موجودہ سٹینڈرڈ ماڈل سے بہت مایوس ہو گئے ہیں۔ یہ 17 سب اٹامک ذرات کو بیان کرتا ہے جس میں 12 سے مادہ مل کر بنا ہے اور پانچ ’طاقت کو لے کر چلنے والے ہیں۔‘ ان میں سے ہگز بوسون بھی ایک ہے جسے ایل ایچ سی میں 2012 میں دریافت کیا گیا تھا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مشاہدے میں آنے والے نئے ذرے کی دریافت سے یہ پتہ چلانے میں مدد مل سکتی ہے کہ مادے کا وجود کیسے عمل میں آتا ہے۔

اس سے قبل جولائی 2012 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ منصوبے سے وابستہ سائنسدانوں نے ہگس بوسون یا ’گاڈ پارٹیكل‘ جیسے ذرے کی دریافت کا دعویٰ کیا تھا۔

ہگس بوسون وہ تخیلاتی لطیف عنصر یا ’سب اٹامک‘ ذرہ ہے جسے اس کائنات کی تخلیق کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

سائنسدان گذشتہ 45 برس سے ایسے ذرے کی تلاش میں تھے جس سے یہ واضح ہو سکے کہ مادہ اپنی کمیت کیسے حاصل کرتا ہے اور اس دریافت کا اعلان جنیوا میں ایل ایچ سی سے وابستہ سائنسدانوں کی ٹیم نے کیا۔

ہگس بوسون کی تھیوری کے خالق پروفیسر پیٹر ہگس ہیں جنھوں نے 60 کے عشرے میں سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا تھا۔

اسی بارے میں