سیاہ ترین رنگ کی تلاش

Image caption یہ پینٹ نئی طرز کے شمسی تونائی پلانٹ بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سین ڈی ایگو میں ایک گریجویٹ طالب علم لزی کالڈول چھوٹے چھوٹے دھاتی سکوئر پر کالے رنگ کا پینٹ کر رہی ہیں۔ سائنسی تجربات کی صف میں شاید اتنا شاندار منظر نہیں۔

مگر جو پینٹ وہ استعمال کر رہی ہیں وہ انتہائی پیچیدہ تحقیق کا نتیجہ ہے۔ شاید انسانی تخلیقات میں یہ سیاہ ترین مواد ہے۔

ییونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی تحقیقاتی ٹیم شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کو زیادہ موثر بنانے کے لیے ایسا مواد تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو زیادہ سے زیادہ شمسی تونائی جذب کر سکے دیر پا بھی ہو۔

’ہارٹ آف ڈارکنس‘

یہ پینٹ نئی طرز کے شمسی توانائی پلانٹس بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہزاروں شیشوں کی مدد سے سورج کی روشنی کو ایک مینار کی طرف منعکس کیا جاتا ہے جس پر یہ انتہائی سیاہ پینٹ لگا ہوتا ہے۔ اس روشنی کو شدید حرارت میں تبدیل کر کے اسے بھاپ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بھاپ کی مدد سے بجلی پیدا کر جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس پلانٹ میں ہزاروں شیشوں کی مدد سے سورج کی روشنی کو ایک مینار کی طرف منعکس کیا جاتا ہے جس پر یہ انتہائی کالا پینٹ لگا ہوتا ہے۔

یہ بجلی پیدا کرنا کا انتہائی ماحول دوست طریقہ ہے اور اس کی مدد سے پیٹرولیم مصنوعات کی مدد سے بجلی پیدا کرنے والے موجودہ پلانٹس کو اس ٹیکنالوجی پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس حرارت کو سنبھالا بھی جا سکتا ہے تاکہ جب سورج نہ چمک رہا ہو تب بھی بجلی پیدا کی جا سکے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ روشنی جذب کرنے کے لیے موجودہ مواد کی پرفارمنس ناکافی ہے۔ وہ اس قابل نہیں کہ اس قدر حرارت برداشت کر سکیں اور نہ ہی وہ زیادہ دیر پا ہیں۔

سائنس دانوں کی ٹیم میں شامل پروفیسر ریکن چین کا کہنا ہے کہ نیا مواد انتہائی مختلف ہو گا۔

’سب سے پہلے تو یہ انتہائی موثر طریقے سے سورج کی روشنی کو جذب کرتا ہے۔ دوسرا یہ 700 ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت برداشت کر لیتا ہے۔ یہ سب موجود مواد کے ساتھ ممکن نہیں۔‘

مواد جتنا کالا ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ شمسی روشنی جذب کرتا ہے۔

اس نئے پینٹ کا راز نینو ٹیکنالوجی میں ہے۔ اس کی سطح پر ایسے ذرات ہوتے ہیں جو کہ روشنی کا انعکاس انتہائی کم کر دیتے ہیں۔

Image caption اس کی سطح پر ایسے ذرات ہوتے ہیں جو کہ روشنی کا انعکاس انتہائی کم کر دیتے ہیں

تحقیقی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ یہ پینٹ سورج سے آنے والی 90 فیصد روشنی جذب کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذرات کا حجم روشنی کی ویوولنتھ کے قریب ہے جس کے ذریعے یہ زیادہ سے زیادہ روشنی جذب کر لیتے ہیں۔

’اس کے ذرات اس قدر چھوٹے ہیں کہ روشنی جب اس میں داخل ہوتی ہے تو ایسے پھنس جاتی ہے جیسے کہ کوئی گھنے جنگل میں گم ہو جائے۔‘

مگر یہ تو ہے نظریہ۔ اور یہ چھوٹے چھوٹے دھاتی مربع اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نظریات کو عملی شکل دینا کتنا مشکل ہے۔

Image caption یہ نینو ذرات خوردبین کی مدد سے دیکھے جا سکتے ہیں

ہر مربع کا فارمولا ایک دوسرے سے ذرا سا مختلف ہے کیونکہ ٹیم بہترین فارمولے کی تلاش میں ہے۔

’ففٹی شیڈز آف بلیک‘

محققین کا کہنا ہے کہ سب سے کالے رنگ کی تلاش میں ہیں۔ خوردبین کے نیچے یہ نینو ذرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے لیے مالی امداد امریکی حکومت کے سن شاٹ پروگرام سے کی جا رہی ہے جس کا مقصد شمسی تونائی کو توانائی کے دیگر وسائل جتنا منافع مند بنایا جا سکے۔

مگر اس خواب کی تعبیر میں ابھی بہت وقت چاہیے۔ بڑے پیمانے پر پیدا کی گئی بجلی میں سے صرف ایک فیصد شمسی توانائی سے آتی ہے، تاہم شمسی تونائی کا رجحان دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے۔

اسی بارے میں