صفر اخراج والی کاروں کا دور آ گیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ٹیزلا ایس ایک بیٹری چارج میں 400 کلو میٹر کا سفر کرتی ہے

جب ٹیوٹا کمپنی کسی نئی ٹیکنالوجی میں سنجیدگی سے سرمایہ داری کرتی ہے تو سب کو اطمینان سے بیٹھ کر اسے ضرور دیکھنا چاہیے۔

جب اس نے 1997 میں فرسٹ جینیریشن پریئس کار لانچ کی تو بہت سوں نے اس کا مذاق اڑایا کہ وہ ایک بھدی کار ہے، کوئی اتنی موثر بھی نہیں اور بالکل مزاج سے ہٹ کر۔

18 سال بعد ٹیوٹا تقریباً 50 لاکھ پریئس گاڑیاں بیچ چکی ہے اور یہ اب جاپان میں سب سے زیادہ بکنے والی کار ہے۔

اور اب آئی ہے ٹیوٹا میرائی، دنیا کی پہلی بڑے پیمانے پر بنائی گئی ہائیڈروجن فیول سیل کار۔

اب تو یہ ایک لطیفہ بھی بن گیا ہے کہ یہ مستقبل کا ایندھن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

فیول سیل 1880 میں ایجاد ہوئے تھے۔ انھیں 1960 میں اپولو سپیس کرافٹ میں استعمال کیا گیا تھا۔

فیول سیل ہائیڈروجن فیول کے ساتھ مل کر بجلی پیدا کرتا ہے۔ یہ عمل وہ آکسیجن کے ساتھ ردِ عمل کے طور پر کرتا ہے جس کے نتیجے میں صرف پانی ہی بطور فضلہ پیدا ہوتا ہے۔

فیول سیلز کے ساتھ مسئلہ ہمیشہ اس پر آنے والی لاگت رہی ہے، جسے عموماً لاکھوں ڈالروں میں کہا جاتا ہے۔

لیکن ٹیوٹا نے میرائی کی قیمت 60,000 ڈالر رکھی ہے اور اسے ایک فیملی کار میں تبدیل کر دیا ہے۔ جاپانی زبان میں میرائی کا مطلب ’مستقبل‘ ہے۔

میرائی کی جو سب سے پہلی چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ اس کا حجم ہے۔ یہ تقریباً پانچ میٹر لمبی ہے۔ یہ وزنی بھی ہے کیونکہ اس کا وزن تقریباً دو ٹن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ٹیوٹا میرائی دنیا کی سب سے پہلی بڑے پیمانے پر بنائی گئی فیول سیل کار ہے

اور اس کے بعد اس کی قیمت بھی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ زبردست ٹیکنالوجی کے اعتبار سے یہ سستی ہی تصور کی جائے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس سے کم قیمت میں آپ بی ایم ڈبلیو کی فائیو سیریز یا مرسیڈیز ای کلاس کار خرید سکتے ہیں۔

یہ بڑی، وزنی اور مہنگی ہے۔ سو ٹیوٹا کسی بیٹری والی الیکٹرک کار کی بجائے اسے کیوں بنا رہی ہے؟

سب سے آسان جواب اس کی ’رینج‘ ہے۔

میں ٹیوٹا کے صدر دفتر سے اسے لے کر جاپان کے پہلے ہائیڈروجن فلنگ سٹیشن پر گیا جو ٹوکیو ٹاور کے قریب ہے۔ پوری ٹینکی بھرنے میں صرف تین منٹ لگے۔ جب میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو میرائی کے کمپیوٹر نے مجھے بتایا کہ میں اس سے 350 کلومیٹر کا سفر کر سکتا ہوں اور مجھے اس کے بعد ہی ٹینکی بھروانی پڑے گی۔ یہ کسی بھی بیٹری سے چلنے والی کار کے مقابلے میں دوگنی رینج ہے اور یہ صرف آغاز ہی ہے۔

ٹیوٹا کو یقین ہے کہ یہ صفر اخراج والی گاڑیوں کا زمانہ ہے اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجی اس کا بڑا حصہ ہو گی۔

نیسان کی بیٹری والی کار

نیسان کی کار اپنے پرانے حریف ٹیوٹا سے بہت مختلف ہے۔

نیسان کے سربراہ کارلوس گوسن ہائیڈروجن سے اپنی ناپسندیدگی بالکل نہیں چھپاتے۔ اس کے برعکس نیسان لیتھیئم آئن کی بیٹریوں پر انحصار کر رہی ہے۔

گوسن الیکٹرک گاڑیوں میں ’رینج کی الجھن‘ کے مسئلے کا مذاق اڑاتے ہیں۔

2013 میں ٹوکیو موٹر شو میں مجھ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا: ’کہاں ہے سارا ہائیڈروجن کا ڈھانچہ؟ یہ کہیں نہیں ہے، اسے ابھی بنانا ہے۔ بجلی کا ڈھانچہ کہاں ہے؟ ہر جگہ۔‘

یہ بالکل ٹھیک بات ہے۔ اس وقت، تقریباً کہیں بھی ہائیڈروجن کا ڈھانچہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نیسان لیف کو ری چارج کرنے کے لیے صرف پلگ ان کرنا پڑتا ہے

اپنی کار کو ری چارج کرنے کے لیے آپ کو صرف ایک سوکٹ ہی چاہیے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب زیادہ تر گاڑیاں ری چارج ہونے کے لیے آٹھ گھنٹے تک لیتی ہیں جو کہ ایک لمبا وقت ہے۔

لیکن اب یہ بدل رہا ہے۔

اسے جاننے کے لیے میں نے نیسان کی الیکٹرک کار ’لیف‘ کا قریبی جائزہ لیا۔

لیف کوئی نئی کار نہیں ہے۔ یہ گذشتہ چار سال سے مارکیٹ میں ہے۔ اس پر بہت تنقید بھی کی گئی کہ اس کی حقیقی رینج اس کی بتائی گئی رینج سے کافی کم ہے اور اس کی بیٹری کی عمر بھی جلد ہی ’ڈھل‘ جاتی ہے۔

لیکن جیسے ہی آپ سٹیرنگ کے پیچھے بیٹھیں تو لیف واقعی آپ کو کافی متاثر کرتی ہے۔

یہ بالکل عام فیملی ہیچ بیک کار کی طرح چلتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ کوئی آواز نہیں اور اس کی رفتار بھی تیزی سے بڑھائی جا سکتی ہے۔ لیکن آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ رفتار بڑھانے سے اس کی رینج متاثر ہوتی ہے۔

یہاں ٹیکنالوجی آتی ہے۔ نیسان سیٹیلائٹ نیویگیشن سافٹ ویئر آپ کو بتاتا ہے کہ قریبی چارجنگ سٹیشن کہاں ہیں۔ نہیں تو آپ ڈیش بورڈ پر لگا ایک بٹن دبائیں تو یہ کار نیسان کے آپریٹر کو کال کرے گی جو آپ کی نیسان لیف کا پتہ جی پی ایس کے ذریعے لگا کر آپ کو بتائے گا کہ ’کوئیک جارج‘ یعنی جلدی چارج کرنے کے لیے آپ کا قریبی سٹیشن کون سا ہے۔

’کوئیک چارج‘ بیٹری سے چلنے والی کاروں کا مستقبل ہے۔

گھروں کی نسبت کوئیک چارجنگ سٹیشن بہت تیزی سے بیٹری چارج کر دیتے ہیں۔

ہائیڈروجن بمقابلہ الیکٹرک

ابھی تو صرف ٹیوٹا ہی ہائیڈروجن پاور استعمال کر رہی ہے حالانکہ ہونڈا کمپنی نے بھی کہا ہے کہ وہ بھی جلد ہی اس میدان میں آئے گی۔

اور میرائی بھی راتوں رات دنیا کو نہیں بدل دے گی۔ اس سال اس کی صرف 700 کاریں ہی بنائی جا رہی ہیں۔ اگر آپ آج اس کا آرڈر دیتے ہیں تو یہ آپ کو 2018 تک مل سکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر آپ بیٹری والی کار چاہتے ہیں تو یہ آپ کو سستی اور جلدی مل سکتی ہے۔

آپ کو لیف 26,000 ڈالر میں ملے گی۔

بی ایم ڈبلیو، فورڈ، ووکس ویگن، رینو، کیا اور مرسیڈیز سبھی بیٹری والی الیکٹرک کاروں پر کام کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹیزلا بھی ہے جو بیٹری والی کاروں میں سب سے مہنگی اور آرام دہ کار ہے۔ وہ ایک چارج میں 400 کلومٹیر کا سفر طے کرتی ہے۔

بیٹری اور ہائیڈروجن کاروں کے متعلق سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بہت سارے تجربات کے بعد اب صفر اخراج والی کاروں کا دور بالآخر آ گیا ہے۔

اسی بارے میں