ہیکروں کی سی آئی اے اہلکاروں کی معلومات تک ’رسائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تحقیق کرنے والے ادارے دو سائیبر حملوں کی تحقیق کر رہے ہیں

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ چین کےساتھ مبینہ روابط رکھنے والے ہیکروں نے امریکی انٹیلی جنس اور فوجی اہلکاروں کی معلومات چوری کی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پچھلے ہفتے ہونے والے سائبر حملے کے نتیجے میں لاکھوں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی معلومات چوری ہوئی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس سائبر حملے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں کی معلومات تک بھی رسائی حاصل کی گئی ہو۔

اخباری رپورٹ کے مطابق جو ڈیٹا ہیک ہوا ہے اس میں سی آئی اے ایجنٹوں کی ذاتی معلومات، مالی حیثیت، خاندان کے بارے میں معلومات، غیر ملکیوں کے ساتھ روابط اور ہمسایوں اور دوستوں کے نام شامل ہیں۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ہیکروں نے انٹیلی جنس اہلکاروں کی جانب سے سکیورٹی کلیرنس کے لیے جمع کروایا جانے والا 127 صفحات پر مشتمل ’فارم ایف ‘ جس میں ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں تفصیلات جیسے کہ ان کی آنکھوں کا رنگ مالی معاملات وغیرہ شامل ہوتی ہیں، تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے۔

اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ انھیں شبہ ہے کہ 40 لاکھ سرکاری ملازمین کی معلومات چرائی گئی ہیں۔

’لاکھوں امریکی ملازمین کی معلومات چوری، شبہ چین پر‘

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تحقیق کرنے والے ادارے دو سائبر حملوں کی تحقیق کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک حملے میں 40 لاکھ نہیں ایک کروڑ چالیس لاکھ ریٹائرڈ اور حاضر سروس وفاقی ملازمین کی معلومات تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔

ایک اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ’سوال یہ ہے کہ کیا اس حملے میں سی آئی اے تک رسائی حاصل کی جاسکی ہے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ بہت بڑا دھچکہ ہے اور اس کے نتیجے میں خفیہ ایجنٹوں کی شناخت ظاہر ہو جائے گی۔‘

یاد رہے کہ امریکی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ اس سائبر حملے کے پیچھے چینی ہیکروں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

حکام کے مطابق اس حملے کی وجہ سے ہر وفاقی ادارہ متاثر ہو سکتا ہے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن سینیٹر سوزن کولنز نے کہا تھا کہ خیال یہی ہے کہ یہ سائبر حملہ چین سے کیا گیا۔

تاہم واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے خبردار کیا تھا کہ امریکی حکام کو ’قیاس آرائی‘ سے گریز کرنا چاہیے۔

سفارت خانے کے ترجمان زہو ہائیچوان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی الزام تراشی ’ذمہ دارانہ عمل‘ نہیں اور اس کے غیر تعمیری نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں