پن کوڈ کے لیے اعداد و حروف کی جگہ ایموجیز

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ماہرین کے مطابق 44 ایموجیز کے کومبینیشن زیادہ محفوظ ہو سکتے ہیں

ایک برطانوی کمپنی نے انٹرنیٹ پر روایتی طور پر استعمال کیے جانے والے پن کوڈ کی جگہ ایموجیز کو اس کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔

برطانوی کمپنی انٹیلیجنٹ انوائرنمنٹ کا کہنا ہے کہ ایموجیز یعنی مختلف کام، لمحات اور جذبات کی عکاسی کرنے والی تصاویر زیادہ محفوظ ہیں۔

خیال رہے کہ انٹرنیٹ پر پن کوڈ کا استعمال عام طور سے آن لائن بینکنگ میں ہوتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ روایتی صفر سے 10 نمبر کے مقابلے 44 ایموجیز کے زیادہ کومبینیشن یا الحاق ہو سکتے ہیں۔

کمپنی کا دعویْ ہے کہ کئی ڈیجیٹل بینکوں نے ان کے اس خیال اور تصور میں دلچسپی دکھائی ہے۔

یادداشت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کے لیے تصاویرکا یاد رکھنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

انٹیلیجنٹ انوارنمنٹ کمپنی کے ڈائرکٹر ڈیوڈ ویبر کہتے ہیں کہ یہ نظام 15 سے25 سال کے لوگوں کے لیے تیارکیا گيا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یادداشت کے ماہر کا کہنا ہے انسان تصاویر کو یاد رکھنے کے لیے زیادہ اچھی طرح تیار کیا گيا ہے

انھوں نے کہا کہ ’مالی ادارے تفریحات اور نئی سہولیات سے علیحدہ کیوں رہیں۔ یہ لاگنگ کرنے کا صرف ایک دوسرا طریقہ ہے۔‘

ڈیوڈ ویبر نے کہا کہ ان کی کمپنی نے اس تصور کو پیٹینٹ نہیں کرایا ہے یعنی اس کا جملہ حقوق محفوظ نہیں کرایا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے خیال میں یہ پیٹینٹ کرائے جانے لائق نہیں لیکن میرے خیال سے ہم لوگ پہلے ہیں جنھوں نے اس بارے میں سوچا۔‘

سائبر سکیورٹی کے ماہر پروفیسر ایلن وڈوارڈ نے کہا کہ اعدادو و حروف کی گنجلک ترتیب کے مقابلے پیٹرنز اور تصاویر کا استعمال پہلے سے ہی کسی کسی کمپنی میں مفید متبادل کے طور پر رائج ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال سے یہ دلچسپ اور مبارک قدم ہے۔ اگر ہم پاس ورڈ کے استعمال کو جاری رکھتے ہیں اور یہ ایک عرصے تک رائج رہنے والا ہے تو ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ انسان کس طرح سوچتے ہیں اور انھیں جہاں تک ممکن ہو یاد رکھنے کے لیے آسان بنایا جائے۔‘

Image caption مسٹر ٹیپر نے کہا کہ اس تصور کی سب سے بڑی کمی انسانی رویہ ہے اور ’میرے خیال میں اس کے لیے انسانی برتاؤ کی سخت جانچ زیادہ ضروری ہے‘

یادداشت کے سابق چیمپیئن مائیکل ٹیپر نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی نمبر یا تصویر کی ترتیب کو یاد رکھنے کا طریقہ ایک ہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر ہم تصاویر کو یاد رکھنے کے لیے بہتر طور سے تیار کیے گئے ہیں۔ تاہم انسان سست واقع ہوا ہے اور ہے آسان طریقے کو پسند کرتا ہے۔‘

’اعدادوشمار کی رو سے اس کا توڑ پانا زیادہ مشکل ہوگا لیکن جب آپ کے سامنے سکرین پر ایموجیز پیش کیا جائے گا تو آپ ایسی ترتیب یاد رکھنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جسے آپ منتخب کرنے جا رہے ہیں اور آپ چاروں کونوں یا پھر اوپر کی قطار میں موجود ایموجیز کو منتخب کریں گے اور یہ اسی قدر غیر محفوظ ہوگا جیسے کہ اعدادوالفاظ کی ترتیب ہوتی ہے۔‘

ڈیوڈ ٹیپر نے کہا کہ اس تصور کی سب سے بڑی کمی انسانی رویہ ہے اور ’میرے خیال میں اس کے لیے انسانی برتاؤ کی سخت جانچ زیادہ ضروری ہے۔‘

اسی بارے میں