بیلجیئم میں فیس بک پر مقدمہ

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فیس بک پر الزام ہے کہ وہ یورپی پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے

بیلجیئم کا پرائیویسی کمشنر اس دعویٰ کے بعد کہ فیس بک ویب پر لوگوں کو ٹریک کیا جاتا ہے اس پر مقدمہ کر رہا ہے۔

ملک کے پرائیویسی پروٹیکشن کمیشن ( سی سی پی) نے فیس بک پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ اسے نہ استعمال کرنے والے غیر صارفین کی عادات اور ممبران کو بھی ٹریک کر رہی ہے۔

مئی میں بھی اسی ادارے نے فیس بک پر تنقید کی تھی۔

فیس بک نے کہا کہ اسے حیرت ہے کہ سی سی پی نے ایسا ایکشن لیا ہے کیونکہ وہ اس ہفتے اس کی تشویش پر بات کرنے کے واچ ڈاگ سے ملنے والا تھا۔

سی سی پی کی ترجمان نے کہا ہے کہ انھیں یہ فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کہ گذشتہ ماہ جو فیس بک سے سوالات پوچھے گئے تھے اس نے اس کے تسلی بخش جواب نہیں دیے تھے۔

کمیشن نے جو اپنے جرمن ڈچ ، فرانسیسی اور ہسپانوی کے ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے فیس بک پر یورپی رازداری کے قوانین کی پامالی کا الزام لگایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فیس بک نے کہا ہے کہ اسے اس ایکشن سے بڑی مایوسی ہوئی ہے

فیس بک کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم حیران اور مایوس ہیں کہ سی سی پی نے پہلے ہی ہمارے ساتھ 19 جون کو ملنے پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ ان کی سفارشات پر بات چیت کی جا سکے۔لیکن انھوں نے ایک دن پہلے ہی فیس بک بیلجیئم کو عدالت عدالت میں لے جانے کا ڈرامائی ایکشن لے لیا۔

’اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ سی سی پی کے کیس کا کوئی میرٹ نہیں، پھر بھی ہم ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے فیس بک آئرلینڈ اور ہمارے ریگیولیٹر دی آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر کے ذریعے ان کے ساتھ خوشی خوشی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

کمیشن نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ فوری حکم جاری کر کے فیس بک کو خصوصاً غیر صارفین کی نگرانی سے روکے، یہ چاہے وہ پلگ انز کے ذریعے کریں یا ککیز کے ذریعے۔

اسی بارے میں