ملیریا کے علاج کے لیے نئی دوا دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ملیریا کی ان اقسام کے بارے میں خدشہ بڑھتا جا رہا ہے جن پر موجودہ ادویات کا اثر نہیں ہوتا

سکاٹ لینڈ کی ڈنڈی یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا کیمیائی مرکب دریافت کیا ہے جس کی ایک خوراک سے نہ صرف ملیریا کا علاج کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ کو روکا بھی جا سکتا ہے۔

مرکب DDD107498 یونیورسٹی کے ڈرگ ڈسکوری یونٹ اور میڈیسنز فار ملیریا وینچر کے اشتراک سے بنایا گیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نئی دوا ملیریا کی ان اقسام کے خلاف بھی کارآمد ہوگی جن کی موجود ادویات سے روک تھام ممکن نہیں۔

اس نئی دریافت کی تفصیلات نیچر نامی سائنسی جریدے میں شائع کی گئی ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2013 میں ملیریا کے 20 کروڑ کیس سامنے آئے تھے اور مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں سے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر خواتین اور چھوٹے بچے تھے۔

ادھر ملیریا کی ان اقسام کے بارے میں خدشہ بڑھتا جا رہا ہے جن پر موجودہ ادویات کا اثر نہیں ہوتا۔ ملیریا کی ایسی اقسام بھارت اور برما کے سرحدی علاقے میں پائی جاتی ہیں۔

اصل خطرہ

اس منصوبے کے مشترکہ سربراہ ڈاکٹر کیون ریڈ کا کہنا ہے کہ ملیریا کے خلاف نئی ادویات کی فوری ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت دنیا کی بہترین ملیریا کُش ادویات کا بےاثر ہو جانا اصل خطرہ ہے۔ ہم نے یہ جو مرکب تیار کیا ہے، یہ مارکیٹ میں موجود تمام ملیریاکُش ادویات سے مختلف انداز میں کام کرتا ہے اسی لیے امکان یہ ہے کہ یہ ملیریا کی ان اقسام کے خلاف بھی کارآمد ہو جن کے خلاف موجودہ ادیات ناکارہ ہیں۔ یہ ملیریا پھیلانے والے جراثیم میں لحمیات تیار کرنے والے اس نظام کو نشانہ بناتا ہے جس کی مدد سے ملیریا کا جرثومہ مرض پیدا کرتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2013 میں ملیریا کے 20 کروڑ کیس سامنے آئے تھے اور مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں سے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے

ڈنڈی یونیورسٹی اور میڈیسنز فار ملیریا وینچر2009 سے ملیریا کے علاج کے لیے مشترکہ طور پر کوشاں ہیں۔ میڈیسنز فار ملیریا وینچرکے سی ای او ڈاکٹر ڈیوڈ ریڈی کا کہنا ہے کہ ’ملیریا کی وجہ سے دنیا کی آدھی آبادی کو خطرہ لاحق ہے اور ان میں نصف مریض اس کا علاج کا خرچ نہیں برداشت کر سکتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ مرکب DDD107498 ایک دلچسپ دریافت ہے کیونکہ یہ نہ صرف مریضوں کا علاج کر سکتا ہے بلکہ لوگوں کو اس سے بچا بھی سکتا ہے۔

یونیورسٹی کے ڈرگ ڈسکوری یونٹ میں محکمہ کیمیا کے سربراہ ایئن گلبرٹ نے اس نئے مرکب کی دریافت کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں: ’ہماری تحقیق سے دریافت ہوا ہے کہ اس مرکب کے ذریعے ملیریا کا علاج اور روک تھام دونوں ایک ہی خوراک سے ہو جائیں گے۔‘

انسانوں میں اس دوا کی ٹیسٹنگ آئندہ سال شروع ہو گی۔

اسی بارے میں