نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں ہاتھی دانت کی تباہی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دنیا میں ہاتھی دانت کا کاروبار ہر برس براعظم افریقہ میں 35 ہزار ہاتھیوں کی ہلاکت کی وجہ بنتا ہے

امریکی شہر نیویارک کے مشہور سیاحتی مقام ٹائمز سکوائر پر ایک ٹن ہاتھی دانت تباہ کیا گیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ ہاتھی دانت کی غیرقانونی تجارت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یہ ہاتھی دانت امریکی حکام نے نیویارک اور فلاڈیلفیا سے ضبط کیے تھے اور انھیں چٹانیں توڑنے والی مشین کی مدد سے ذرہ ذرہ کر دیا گیا۔

جنگلی حیات کے تحفظ کی سوسائٹی کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہاتھی دانت کا کاروبار ہر برس براعظم افریقہ میں 35 ہزار ہاتھیوں کی ہلاکت کی وجہ بنتا ہے۔

ہاتھی دانت کی تباہی کی تقریب کے موقع پر امریکی اداکارہ کرسٹن ڈیوس نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ہاتھی دانت سے بنی اشیا خریدنے سے گریز کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان جانوروں کو ہر 15 منٹ بعد ہلاک کیا جا رہا ہے اور یہ بہت خوفناک موت ہے۔ اگر ہم نے اب کچھ نہ کیا تو دس سال بعد ایک بھی ہاتھی نہیں بچے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیویارک میں تباہ کیا جانے والا زیادہ تر ہاتھی دانت حکام نے فلاڈیلفیا میں نوادارت کے تاجر وکٹر گورڈن سے ضبط کیا تھا۔

جنگلی حیات کے تحفظ کی سوسائٹی کے ترجمان جان کیلویلی کا کہنا تھا کہ ’یہ غیرقانونی چیز تھی اور ہمارے خیال میں اس کی تباہی سے نہ صرف اس کا تجارتی استعمال کرنے والوں کو پیغام ملا ہے بلکہ اس کے فروخت ہونے کا امکان بھی ختم ہوگیا ہے۔‘

امریکی محکمۂ داخلہ کی سیکریٹری سیلی جیول بھی اس موقع پر موجود تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’آج ہاتھی دانت کی تباہی دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ امریکہ جنگلی حیات سے جڑے جرائم کو برداشت نہیں کرے گا۔‘

نیویارک میں تباہ کیا جانے والا زیادہ تر ہاتھی دانت حکام نے فلاڈیلفیا میں نوادارت کے تاجر وکٹر گورڈن سے ضبط کیا تھا۔ گورڈن کو اس معاملے میں سنہ 2014 میں ڈھائی برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں