’چست جینز صحت کے لیے نقصان دہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption کمپارٹمنٹ سنڈروم ایک انتہائی تکلیف دہ اور ممکنہ طور پر سنگین مسئلہ ہے جس میں خون پٹھوں کے کسی ایک حصے میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چست پتلون پہننے سے پٹھوں اور اعصاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جرنل آف نیورولوجی، نیوروسرجری اور سائیکائٹری نامی طبی جریدے میں ڈاکٹروں نے آسٹریلیا کی ایک ایسی 35 سالہ خاتون کا ذکر کیا جن کی پنڈلیاں سوج جانے کی وجہ سے ان کی چست جینز کاٹ کر الگ کرنا پڑی۔

یہ خاتون اپنا گھر تبدیل کرنے کے سلسلے میں سامان باندھنے کے لیے کئی گھنٹے تک زمین پر اکڑوں بیٹھی رہی تھیں۔ شام تک ان کے پیر سُن ہو گئے تھے اور انھیں چلنے میں دقت ہو رہی تھی۔

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اس خاتون کو ایک بیماری لاحق تھی جسے ’کمپارٹمنٹ سنڈروم‘ کہتے ہیں۔ یہ بیماری چست جین کی وجہ سے مزید شدت اختیار کر گئی۔

کمپارٹمنٹ سنڈروم ایک انتہائی تکلیف دہ اور ممکنہ طور پر سنگین مسئلہ ہے جس میں خون پٹھوں کے کسی ایک حصے میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اس کی وجہ سے وہ خاتون چلتے ہوئے گر گئیں اور پھر خود اٹھ نہیں سکیں۔ انھیں کئی گھنٹے تک زمین پر لیٹے رہنا پڑا۔

جب رائل ایڈیلیڈ ہسپتال میں ان کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کی ٹانگیں بری طری سوجی ہوئی تھیں۔

اگرچہ ان کے پیروں تک خون پہنچ رہا تھا، تاہم ان کی ٹانگیں انتہائی کمزور ہو چکی تھیں اور ان کے اعصاب کو نقصان پہنچا تھا۔ انھیں ایک ڈرپ لگانی پڑی تھی اور چار روز تک وہ بغیر مدد کے چل نہیں سکیں۔

طبی کارکنوں نے اس کے علاوہ بھی متعدد ایسے کیس رپورٹ کیے ہیں جن میں چست جین پہننے سے لوگوں کی ٹانگیں سن ہوگئی ہوں۔ تاہم عام لوگوں میں اس بیماری کے امکانات بہت کم ہیں۔

اسی بارے میں