چین کے ماحولیاتی منصوبے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈبلیو ڈبلیو ایف کی سمانتھا سمتھ نے کہا کہ چین پہلا اہم ترقی پذیر ملک بن گیا ہے جس نے مکمل اخراج کی چوٹی کی حد تعین کی ہے

دنیا میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والے ملک چین نے اپنے ماحولیاتی منصوبے کی تفصیل کا اعلان کیا ہے۔

وزیرِ اعظم لی کیچیانگ کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 2030 تک اخراج اپنی اونچی حد تک پہنچ جائے گا اور چین سخت محنت کرے گا کہ ہدف کو اس سے بھی پہلے حاصل کر لیا جائے۔

یہ بیان اسی نوعیت کا ہے جس کا اعلان گذشتہ نومبر میں امریکہ اور چین کے اجلاس کے بعد کیا گیا تھا۔

چین کا یہ اعلان اس سال کے آخر میں پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی پر ہونے والے نئے عالمی معاہدے کے مذاکرات سے پہلے آیا ہے۔

پیرس میں وزیرِ اعظم لی کیچیانگ اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کے درمیان ایک میٹنگ کے بعد وزیرِاعظم لی کے دفتر سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ 2030 تک چین کاربن ڈائی آکسائیڈ کو قومی پیداوار کے فی یونٹ اخراج کو 2005 کی سطح سے 60۔65 فیصد کم کر دے گا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین توانائی کے بنیادی استعمال میں آنے والے غیر فاسل ایندھن کے حصے میں بھی 2030 تک 20 فیصد اضافہ کرے گا۔

اس سے پہلے بیجنگ نے 2020 تک صاف ذرائع سے 15 فیصد کے قریب توانائی حاصل کرنے کا ٹارگٹ رکھا تھا۔

بی بی سی کے سائنس ایڈیٹر ڈیوڈ شکمان کہتے ہیں کہ یہ عالمی ماحولیاتی مذاکرات میں ایک سنگِ میل ہے۔ کئی برسوں تک چین کہتا رہا ہے کہ وہ بہت غریب اور غیر ترقی یافتہ ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسز میں کمی کرنے کی شرائط قبول کرے۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی مذاکرات میں شامل سبھی ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ پیرس میں ہونے والے اہم مذاکرات سے پہلے اخراج میں کمی کے قومی منصوبے پیش کریں۔

گرین پیس چین کی ماحولیات کی ماہر لی شو کہتی ہیں کہ پیرس میں کامیابی کے لیے چین اور یورپی اتحاد سمیت سبھی کھلاڑیوں کو زیادہ کچھ کرنا ہو گا۔

’آج کے بیان کو مزید پرعزم عوامل کے لیے ایک آغاز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ توانائی کی اس اہم تبدیلی کو پوری طرح پیش نہیں کرتا جو چین میں پہلے ہی ہو رہی ہے۔‘

ورلڈ وائڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے کہا ہے کہ چین کا نیا ماحولیاتی منصوبہ دوسرے ممالک کو بھی ایک مضبوط پیغام بھیجتا ہے کہ وہ اس سال نئے عالمی ماحولیاتی معاہدے سے پہلے ماحولیات پر مزید کچھ کریں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی سمانتھا سمتھ نے کہا کہ چین پہلا اہم ترقی پذیر ملک بن گیا ہے جس نے مکمل اخراج کی چوٹی کی حد تعین کی ہے۔

’ایسا کرتے ہوئے چین نے عالمی ماحولیاتی سکیورٹی اور ملک میں قابلِ تغیر توانائی کی تبدیلی دونوں کے ساتھ وابستگی ظاہر کی ہے۔‘

پیر کو برسلز میں یورپی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں چین کے وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ چین ماحولیاتی تبدیلی کے لیے ایک منصفانہ عالمی نظام کی تلاش میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ، مناسب اور سب کے لیے فائدہ مند عالمی ماحولیاتی گورننس کے نظام کے لیے کام کرے گا۔

اسی بارے میں