چین میں زلزلے کی پیشگوئی کے لیے جانوروں کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پارک میں کیمرے لگائے گئے ہیں جن کے ذریعے وہاں کام کرنے والے اہلکار جانوروں کے رویے کا مشاہدہ کرینگے

چین میں سائنسدانوں نے زلزلے کی پیشگوئی کے لیے اب جانوروں کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماڈرن ایکسپریس کی ویب سائٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے مشرقی صوبے جیانگ سو کے دارالحکومت نجینگ میں سائنسدانوں نے چڑیا گھروں اور جانوروں کے پارکوں میں مشاہدے کے مراکز کھولے ہیں۔

ان مراکز میں وہ ہزاروں جانوروں کے رویے میں اچانک تبدیلیوں پر نظر رکھیں گے کیونکہ یہ تبدیلیاں مستقبل قریب میں آنے والے زلزلے کی نشاندہی ہو سکتی ہیں۔

شہر کے یوھواتائی ضلع میں ایک ماحولیاتی پارک زلزلے کی پیش گوئی کرنے کے لیے قائم کیے جانے والے مراکز میں سے ایک مرکز ہے۔

اطلات کے مطابق اس پارک میں 2ہزار مرغیاں، 200 سور رکھے گئے ہیں اور ایک بڑے رقبے پر مچھلیوں کے لیے تالاب بنائے گئے ہیں۔

پارک میں کیمرے لگائے گئے ہیں جن کے ذریعے وہاں کام کرنے والے اہلکار جانوروں کے رویے کا مشاہدہ کرینگے اور اس حوالے سے دن میں دو مرتبہ متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے گا۔

سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ زاو بنگ کا کہنا ہے کہ’ کبھی کبھار زلزلے سے پہلے جانور تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن اگر صرف ایک مرغی کے رویے میں تبدیلی آتی ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ کوئی مصیبت آنے والی ہے، اس لیے جانوروں کے ایک بڑے گروہ کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔‘

ایک اور مشاہداتی مرکز ہانگشن چیڑیا گھر میں کام کرنے والے ایک اہلکار شین زیجن کا کہنا تھا کہ زلزلے کی پیش گوئی کرنے کے لیے جانور بھی اتنے ہی موثر ہیں جتنی جدید ٹیکنالوجی ہے۔

’پرندے تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، اگر وہ کتے کی طرح اپنی دم ہلا رہے ہوں تو اس پر توجہ دینی چاہیے۔‘

ایک عرصے سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جانور مسقبل میں آنے والے زلزلے کے بارے میں خبردار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2011 میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ جانور زلزلے سے پہلے زمینی پانی میں آنے والی کیمیائی تبدیلیوں کا شاید پتا لگا سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے ایسا خیال کرنے کے پیچھے اٹلی کے علاقے لا ائیکولا میں 6.3 کی شدت کے زلزلے کے آنے سے چند روز قبل مینڈکوں کی جانب سے تالاب خالی کیا جانا تھا۔

ایک اور تحقیق کے دوران سنہ 2011 میں پیرو میں 7.0 کی شدت کے زلزلے کے آنے سے تین ہفتے قبل جنگلی جانوروں کے رویوں میں تبدیلی دیکھی گئی تھی۔

اسی بارے میں