دنیا کے معمر ترین مرد کا ٹوکیو میں کا انتقال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب اگست 2014 میں موموئی کو معمر ترین مرد کا سرٹیفیکیٹ ملا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ مزید دو برس جینا چاہتے ہیں

جاپان سے تعلق رکھنے والے ساکاری موموئی جنہیں دنیا کے معمر ترین مرد ہونے کا اعزاز حاصل تھا، 112 سال کی عمر میں ٹوکیو میں وفات پا گئے ہیں۔

سابق استاد اور پانچ بچوں کے والد موموئی کا انتقال اتوار کو گردے فیل ہونے سے ہوا۔

انھیں گذشتہ برس اگست میں گینیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کا سب سے عمررسیدہ مرد قرار دیا تھا۔

1903 میں فوکوشیما میں پیدا ہونے والے موموئی کے انتقال کا اعلان منگل کو کیا گیا۔

گینیز کے مطابق ساکاری موموئی کو کتب بینی اور جاپان میں سیاحت کا شوق تھا اور وہ چینی شاعری میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔

جب اگست 2014 میں انھیں معمر ترین مرد کا سرٹیفیکیٹ دیا گیا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ مزید دو برس جینا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دنیا کی سب سے عمر رسیدہ شخصیت کوئی مرد نہیں بلکہ امریکہ کی 116 سالہ خاتون سوزنیہ مسہاٹ جونز ہیں

گینیز نے ساکاری کی موت کے بعد فی الحال یہ اعلان نہیں کیا کہ اب دنیا کا معمر ترین مرد کون ہے تاہم خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اعزاز اب ممکنہ طور پر ایک اور جاپانی یاسوتارو کوئیڈے کو ملے گا جو موموئی سے ایک ماہ چھوٹے ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا کی سب سے عمر رسیدہ شخصیت کوئی مرد نہیں بلکہ امریکہ کی 116 سالہ خاتون سوزنیہ مسہاٹ جونز ہیں۔

سوزینہ نے پیر کو ہی نیویارک میں اپنی 116ویں سالگرہ منائی ہے۔

انھیں معمر ترین شخصیت کا اعزاز رواں برس اپریل میں ملا تھا جب جاپان سے تعلق رکھنے والی 117 سالہ مساؤ اوکاوا کا انتقال ہوگیا تھا۔

گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ عرصہ زندہ رہنے کا ریکارڈ 122 سال اور 164 دنوں کا ہے جو فرانس کی جین کالمنٹ نے قائم کیا تھا۔ جین اگست 1997 میں انتقال کر گئی تھیں۔

اسی بارے میں