’عالمی ادارۂ صحت ہنگامی حالات سے نمٹنے کا اہل نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے تفویض کردہ مکمل رپورٹ آج بعد میں شائع کی جائے گی

ایبولا پر سامنے آنے والی ایک آزاد اور نئی رپورٹ کے سربراہ کے مطابق عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) عالمی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ’صلاحیت اور ماحول ‘ نہیں رکھتا۔

ڈیم باربرا سٹاکنگ کا کہنا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت جنوبی افریقہ میں پھیلنے والی مہلک بیماری ایبولا سے نمٹنے میں ناکام رہا جس سے 11,000 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ڈیم باربراکے مطابق عالمی ادارۂ صحت میں تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم عالمی ادارۂ صحت میں تبدیلیوں کے لیے سفارشات مرتب کریں گے۔

دوسری جانب برطانوی امدادی ادارے اوکسفیم کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ صرف عالمی ادارۂ صحت کو اس ناکامی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ پوری انسانی ہمدردی کے نظام میں دوراندیشی کا فقدان ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے تفویض کردہ مکمل رپورٹ آج بعد میں شائع کی جائے گی۔

خیال رہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے تسلیم کیا ہے کہ وہ سنہ 2013 میں پھیلنے والے مہلک بیماری ایبولا سے نمٹنے میں سست رہی۔

عالمی ادارۂ صحت نے اگست سنہ 2014 میں عوامی ہنگامی ایمرجنسی پر بین الاقوامی تشویش ظاہر کی تھی تاہم اس وقت تک 1,000 سے زائد افراد ایبولا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے تھے۔

اسی بارے میں