’تمباکو نوشی اور شیزوفرینیا میں تعلق ممکن ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption شیزو فرینیا کے مریضوں میں سگریٹ نوشی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے تمباکو نوشی ذہنی انتشار یا شیزو فرینیا کا سبب بن سکتی ہے اور اس معاملے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

لندن کے کنگز کالج سے منسلک ایک ٹیم کی تحقیق کے مطابق تمباکو نوشوں میں شیزوفرینیا کا مرض پیدا ہونے کے امکانات دوسرے لوگوں کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ ہوتے ہیں بلکہ وہ قدرے کم عمر میں اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ذہنی امراض کے جریدے ’لینسٹ سائیکائٹری‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 61 مختلف تحقیقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس جائزے کے مطابقہ تمباکو نوشوں میں شیزوفرینیا کے امکانات زیادہ ہونے کی وجہ شاید یہ ہو کہ تمباکو میں شامل نکوٹین سے تمباکو نوشوں کے دماغ میں تبدیلی آ جاتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس تحقیق میں جو نظریہ پیش کیا گیا ہے وہ ’خاصا مضبوط‘ ہے لیکن اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ایک عرصے سے ماہرین اس خیال کے قائل رہے ہیں کہ تمباکو نوشی اور سائیکوسِز (دماغی خلل جس میں جذباتی طرزعمل میں انتشار آ جاتا ہے) کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔

تاہم اکثر ماہرین کا یہ کہنا رہا ہے کہ شیزو فرینیا کے مریضوں میں سگریٹ نوشی کے امکانات اس لیے زیادہ ہوتے ہیں کہ یہ لوگ دماغ کے اندر آنے والی آوازوں اور وہم کی بیماری (hallucination) سے تنگ آ کر سگریٹ کا استعمال زیادہ کر لیتے ہیں۔

کنگز کالج کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں 14,555 تمباکو نوشوں اور 273,162 غیر تمباکو نوشوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے۔

اس جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ

  • سائیکوسِز کے57 فیصد مریض ایسے تھے جو یہ مرض لاحق ہونے سے پہلے ہی تمباکو نوشی اختیار کر چکے تھے۔
  • تمباکو نوشی نہ کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں تمباکو نوشوں میں شیزوفرینیا کے امکانات دو گنا زیادہ تھے۔
  • تمباکو نوشوں میں شیزو فرینیا کا مرض غیر تمباکو نوشوں کے مقابلے میں اوسطاً ایک سال پہلے شروع ہوا۔
تصویر کے کاپی رائٹ i
Image caption ’اس قسم کی تحقیق میں اس بات کا تعین کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ انڈا پہلے آیا یا مرغی‘

اس تحقیق میں پیش کیے جانے والے نظریے کے مطابق اگر کوئی شخص شیزو فرینیا کا شکار ہونے سے پہلے زیادہ تمباکو نوشی کرتا رہا ہے تو یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ مرض کا شکار ہونے کے بعد علاج کے طور پر سگریٹ پینا شروع کر دیتا ہے۔

کنگز کالج کے نفسیاتی اور ذہنی امراض کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر جیمز میکابے کہتے ہیں کہ ’اس قسم کی تحقیق میں اس بات کا تعین کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ انڈا پہلے آیا یا مرغی (یعنی تمباکو نوشی سے ذہنی انتشار پیدا ہوا یا ذہنی انتشار سے تمباکو نوشی میں اضافہ ہوا)۔ تاہم اس تحقیق سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہییں کہ ذہنی انتشار اور تمباکو نوشی کے درمیان کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے مزید تحقیقات کا دروازہ کھلے گا جس سے ہمیں زیادہ مضبوط دلائل حاصل ہوں گے۔

صاف ظاہر ہے کہ تمباکو نوشوں کی اکثریت کو شیزو فرینیا یا پراگندہ ذہنی کا مرض نہیں ہوتا لیکن محققین کا خیال ہے کہ تمباکونوشی سے اس مرض کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔

بحیثیتِ مجموعی ہر سو میں سے ایک فرد پراگندہ ذہنی کا شکار ہوتا ہے اور تمباکو نوشی میں یہ شرح ہر سو میں دو افراد ہو سکتی ہے۔

کارڈِف یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کے ڈائریکٹر پروفیس مائیک اووِن کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں ماہرین نے ایک ’بڑا مضبوط مقدمہ‘ پیش کیا ہے کہ تمباکو نوشی سے شیزو فرینیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اگرچہ یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ تمباکو نوشی سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے تاہم ذہنی مریضوں میں صحت عامہ کے اصولوں کو بڑی مستعدی سے پھیلانے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اس تحقیق کے حوالے سے ذہنی امراض کے شکار افراد کی بہبود کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیم ’تھِنک مینٹل اِلنیس‘ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ برطانیہ میں پیے جانے والے تمام سگریٹوں کا 42 فیصد ایسے افراد پیتے ہیں جو ذہنی امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ بات سامنے رکھیں تو اِس تحقیق کے نتائج لمحہ فکریہ ہیں۔‘

اسی بارے میں