سولر امپلس کے سفر میں تعطل، مشن خطرے میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگر سولر امپلس جلد امریکہ کے مشرقی ساحل تک نہ پہنچا تو ممکن ہے کہ بحر الکاہل کو عبور کرنے کے لیے موضوں موسمیاتی حالات آئندہ سال تک موجود نہ ہوں گے

شمسی تونائی سے چلنے والے طیارے سولر امپلس کی بیٹری کو نقصان پہنچنے کے باعث امریکی ریاست ہوائی میں اس کی پرواز کم از کم دو ہفتے کے لیے روک دی گئی ہے۔

جاپانی علاقوں کو عبور کرنے کی تاریخی پانچ روزہ پرواز کے طیارے کی بیٹری کا یونٹ گرم ہوگیا تھا۔ انجینیئر طیارے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی اس بات کا تعین نہیں ہو سکا ہے کہ کیا نئے پرزوں کی ضرورت ہوگی یا نہیں۔

اس تاخیر کی وجہ سے اس بات کا امکان کم ہو گیا ہے کہ سولر امپلس دنیا کے گرد چکر لگانے کا مشن کا اسی سال مکمل کر لے۔

یہ طیارہ دبئی سے مارچ میں اڑا تھا اور پانچ سے چھ ماہ کے عرصے کے دوران اسے واپس پہنچنا تھا۔ لیکن راستے میں ناسازگار موسم نے اس کے شیڈول میں کئی ہفتوں کا اضافہ کر دیا ہے۔

اگر سولر امپلس جلد امریکہ کے مشرقی ساحل تک نہ پہنچا تو ممکن ہے کہ بحر الکاہل کو عبور کرنے کے لیے موضوں موسمیاتی حالات آئندہ سال تک موجود نہ ہوں گے۔

طیارے کی کم رفتار، ہلکے وزن اور 72 میٹر کے پروں کی وجہ سے یہ طیارہ صرف مخصوص موسمی حالات میں سفر کر سکتا ہے۔ اگست کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے سمندر کو عبور کرنے کے امکانات کم تر ہوتے جائیں گے۔

اس طیارے کے پائلٹ اینڈرے بروشبرگ نے اس ماہ کے شروع میں نگویا سے کلائیلوا تک پرواز کر کے فضائی سفر کے متعدد ریکاڈ توڑ دیے تھے۔ صرف شمسی توانائی کے ذریعے اڑان سے انھوں نے بہتّر ہزار کلو میٹر کا سفر ایک سو اٹھار گھنٹوں میں طے کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طیارے کے پائلٹ بورشبرگ اور اس منصوبے میں ان کے شریک برٹرینڈ پیکارڈ نے اس دوران ریاست ہوائی میں ماحولیاتی طور پر محفوظ ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات فراہم کیں ہیں

تاہم اس کے دوران جہاز کی بیٹری کا نظام ضرورت سے زیادہ گرم ہوگیا۔ اگرچہ اس بیٹری نے توقع کے مطابق کام کیا لیکن اس کے ارد گرد بہت زیادہ حفاظتی انسولیشن نے درجۂ حرارت کو سنبھالنا بہت مشکل بنا دیا۔

سولر امپلس کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انجینئرز نقصان کا اندازہ لگا لیں تو وہ اگلے چند دنوں میں نیا بلیٹن جاری کرے گی۔ یہ معلوم نہیں کہ اگر نئے پرزوں کی ضرورت ہوئی تو کیا وہ فوری طور پر دستیاب ہوں گے یا نہیں۔

طیارے کے پائلٹ بورشبرگ اور اس منصوبے میں ان کے شریک برٹرینڈ پیکارڈ نے اس دوران ریاست ہوائی میں ماحولیاتی طور پر محفوظ ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات فراہم کیں ہیں۔ دنیا کے گرد سولر امپلس کے چکر کے لیے اگلی پرواز کلائیلوا سے فینکس، ایرزونا تک ہوگی جس کے پائلٹ مٹسر پیکارڈ ہوں گے۔

اسی بارے میں