خلائی جہاز پلوٹو کے قریب پہنچ گیا

Image caption پلوٹو کی تازہ تصویر جس میں اس بونے سیارے کے جنوبی حصے میں دل کی شکل کا علاقہ نظر آ رہا ہے

امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہاز نیو ہورائزنز نظام شمسی کے آخری سیارے پلوٹو کے قریب پہنچ گیا ہے اور اس کی رفتار 14 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔

یہ خلائی جہاز ساڑھے نو برس میں پانچ ارب کلومیٹر کا سفر طے کر کے پلوٹو تک پہنچا ہے۔

نیو ہورائزنز منگل 14 جولائی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 50 منٹ پر اس سیارے کے قریب ترین پہنچا اور اس کا پلوٹو سے فاصلہ صرف 12500 کلومیٹر ہے۔

اس سے قبل خلائی ادارے نے اس بونے سیارے کے قریب سےگزرنے کے دوران کھینچی تفصیلی تصاویر نشر کی ہیں۔

پلوٹو سے فاصلہ صرف 12500 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرتے ہوئے نیو ہورائزنز اس بونے سیارے کی تفصیلی تصاویر کھینچ رہا ہے اور اس کے بارے میں دیگر سائنسی معلومات اکٹھی کر رہا ہے۔

اس مرحلے میں داخلے سے قبل جہاز کے کنٹرولر نے آخری بار اس کی حالت کی رپورٹ حاصل کی جس کے بعد خلائی جہاز نے اپنا اینٹینا زمین کی جانب سے موڑ کر پلوٹو کی جانب کر لیا ہے۔

اب یہ جہاز زمین سے اسی وقت رابطہ کرے گا جب اس کے پاس پلوٹو کی تصاویر اور ڈیٹا جمع ہو چکا ہو گا۔

اس مشن سے وابستہ سائنسدانوں کو اب پانچ ارب کلومیٹر دور سے آنے والے سگنل کے لیے طویل انتظار کا سامنا ہے۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں نیو ہورائزنز کی ٹیم اس سگنل کی شدت سے منتظر رہےگی کہ روبوٹک جہاز کے بغیر کسی حادثے کے پلوٹو کے قریب سے گزرنے کا مشن مکمل ہو چکا ہے۔

یہ رابطہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب برطانوی وقت کے مطابق ایک بجے کے قریب متوقع ہے۔

نیو ہورائزنز کا 2370 کلومیٹر چوڑے پلوٹو کے قریب سے گزرنا خلا کو جاننے کی تاریخ کا انتہائی اہم لمحہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nasa
Image caption نیو ہورائزنز کا 2370 کلومیٹر چوڑے پلوٹو کے قریب سے گزرنا خلا کو جاننے کی تاریخ کا انتہائی اہم لمحہ ہے (خیالی تصویر)

اس کی کامیابی کے نتیجے میں عطارد سے لے کر پلوٹو تک نظامِ شمسی کے تمام نو کلاسیکی سیاروں تک کم از کم ایک خلائی سفر کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

پلوٹو کی جانب سفر کے دوران نیو ہورائزنز حالیہ چند دنوں میں مسلسل معلومات بھیجتا رہا ہے لیکن یہ معلومات کے اس خزانے کے سامنے کچھ نہیں جو وہ پلوٹو کے انتہائی قریب سے گزرتے ہوئے بھیجے گا۔

ناسا کا خلائی جہاز صرف پلوٹو کا ہی نہیں بلکہ اس کے پانچ چاندوں، کیرن، سٹکس، نکس، کربیروس اور ہائیڈرا کا بھی جائزہ لے گا۔

نیو ہورائزنز منصوبے کے مرکزی محقق ایلن سٹرن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس ڈیٹا کا جائزہ لینے کے لیے بےچین ہوں۔ اس وقت تو ہم جیسے ایک آبشار کے نیچے کھڑے اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘

خلائی جہاز کو پلوٹو کے قریب سے گزارنا ہی ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ یہ جہاز پہلے سے فیڈ کی گئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سفر کر رہا ہے اور اسے پلوٹو کے قریب سےگزرنے کے لیے مقررہ راستے پر ہی سفر کرنا ہو گا۔

اتوار کو انجینئیروں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ نیو ہورائزنز کے کمپیوٹروں میں پہلے سے فیڈ کی گئی کمانڈز کے علاوہ اب اسے مزید کمانڈز نہیں بھجوائی جائیں گی۔

اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ جہاز پر نصب ہائی ریزولیوشن کیمرا ’لوری‘ صحیح وقت پر تصاویر کھینچے کیونکہ اگر تصاویر لینے میں جلدی

یا تاخیر کی گئی تو اس کا نتیجہ پلوٹو اور اس کے چاندوں کی تصاویر کی جگہ خالی آسمان کی تصاویر کی شکل میں نکل سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں