قطبی ریچھوں کو خوراک کی کمی کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption خوراک نہ ملنے پر ریچھ بھوکے رہ کر گزراہ کرتے ہیں

قطب شمالی کے سفید ریچھ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے خوراک کی کمی سے نمٹنے کے لیے خود کو ڈھال نہیں پا رہے۔

سائسندانوں کا خیال تھا کہ یہ جانور شکار نہ ملنے پر جبلی طور پر ایک طرح سے بے حس و حرکت ہو جاتے ہیں۔

لیکن نئی تحقیق کے مطابق نسبتاً گرم حالات میں جب خوراک کم ہوتی جاتی ہے تو ریچھ فاقے کرتے ہیں۔

برفانی ریچھوں کی جسامت میں کمی

تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نوع کے جانوروں کے گرم علاقوں میں بچ جانے کے امکانات کم ہیں۔

2008 میں امریکہ میں قطب شمالی کے ریچھوں کو خطرے سے دوچار نوع قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت محکمۂ داخلہ کے سیکریرٹری نے کہا تھا کہ سمندری برف میں ڈرامائی کمی ریچھوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

قطبی ریچھ بنیادی طور پر سمندری برف میں سِیل یا دریائی بچھڑے کا شکار کر کھاتے ہیں لیکن گرمیوں میں برف زیادہ پگھلنے سے سِیل کم ہوجاتے ہیں لہٰذا ریچھوں کو شکار تلاش کرنے میں بہت مشکل ہوتی ہے۔

کچھ تحقیق کار کہتے ہیں کہ قطبی ریچھ کم خوراکی کے باعث کم توانائی سے نمٹنے کے لیے اپنے اندرنی نظام کی رفتار سست کر لیتے ہیں۔ لیکن سائنس دانوں نے الاسکا کے شمال میں واقع سمندر میں ایک خطرناک اور مہنگے آزمائشی منصوبے کے ذریعے جس میں جدید سازوسامان استعمال ہوا اور دو درجن سے زیادہ ریچھوں پر مختلف آلات نصب کیے گئے، یہ نتیجہ نکالا کہ گرمیوں میں ریچھوں کا اندرونی نظام ست نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ خوراک نہ ملنے پر ریچھ بھوکے رہ کر گزراہ کرتے ہیں۔

تحقق کے سربراہ جان وائٹ مین کے مطابق ’ریچھوں کا میٹابولزم عام ممالیہ نوع ہی کی طرح ہے۔ اگر ہمیں خوراک کم ملے تو کچھ ہفتوں بعد ہمارا ڈیٹا بھی ویسا ہی ہوگا جیسا ریچھوں کا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sergei Gorshkov
Image caption 2008 میں امریکہ میں قطب شمالی کے ریچھوں کو خطرے سے دوچار نوع قرار دیا گیا تھا

گو ریچھ خوراک کے معاملے میں شاید اپنے آپ کو نہیں بدل سکتے لیکن ٹھنڈے پانی میں تیرنے کے لیے وہ اپنے اندر بہت زیادہ تبدیلی لا سکتے ہیں۔

’ریچھ عارضی طور پر اپنے جسم کے مرکز کے انتہائی بیرونی حصے کو بہت زیادہ ٹھنڈا ہونے دیتے ہیں جس سے جسم کے انتہائی اندرونی حصے میں واقع اعضا محفوظ رہتے ہیں۔

تحقیق کاروں نے ریچھوں کے تیرنے کی غیرمعمولی صلاحیت کا مطالعہ کیا جس میں انھوں نے دیکھا کہ ایک مادہ ریچھ نے نو دن تک ساحلِ سمندر سے برف تک کا چار سو میل کا فاصلہ تیر کر طے کیا۔ جب سات ہفتوں بعد اس مادہ ریچھ کو پکڑا گیا تو اس کا جسم 22 فیصد کم ہو چکا تھا اور اس کا بچہ بھی باقی نہیں رہا تھا۔

جان وائٹ مین کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ریچھوں کے برفانی پانیوں میں تیرنے کے لیے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی زبردست صلاحیت کا پتہ چل گیا ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ریچھوں کی خود کو ایسے ڈھالنے کی صلاحیت ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں اتنا بڑا کردار ادا کرے گی جتنا کہ شکار کے مواقع کم ہونا کرے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دستیاب ڈیٹا اس بات کا اشارہ ہے کہ بالآخر قطب شمالی کے ریچھ کم ہوتے جائیں گے۔‘

اسی بارے میں