نیند کے اوقات میں تبدیلی سے کینسر کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Thinbkstock

ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بے قاعدہ نیند یا نیند کے اوقات میں تبدیلی سے ’واضح طور پر‘ سرطان کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔

کرنٹ بیالوجی نامی طبی جریدے میں بے ربط نیند پر شائع ہونے والی تحقیق میں چوہیا پر تجربات کیے گئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے مختلف اوقات میں کام کرنے والے افراد کی صحت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

تحقیق کے مطابق ایسی خواتین جن کے خاندان میں چھاتی کے سرطان کا مرض پایا جاتا ہو، انھیں مختلف شفٹوں میں کام نہیں کرنا چاہیے لیکن ایسے افراد کو مزید معائنے کے لیے ٹیسٹ کروانے چاہیے۔

تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ شفٹوں میں کام کرنے والے افراد اور فضائی میزبانوں میں عام لوگوں کے مقابلے میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جسم کے اندرونی ربط یا جسمانی اوقاتِ کار بار بار تبدیل ہونے سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اگرچہ مرض لاحق ہونے کی یہ وجہ غیر یقینی بھی ہے کیونکہ مختلف اوقات میں کام کرنے والوں کو کسی اور وجہ سے بھی کنیسر لاحق ہو سکتا ہے۔ جیسے اُن کی سماجی درجہ بندی، ورزش اور یہ کہ وہ کتنی مقدار میں وٹامن ڈی لیتے ہیں

اس تحقیق میں ایک سال تک ہر ہفتے چوہیا کے جسمانی اوقات میں 12 گھنٹے کی تاخیر کی گئی اور نتیجہ یہ ہوا کے اُسے چھاتی کا سرطان ہونے لگا۔

چھاتی کے کینسر میں عموماً 50 ہفتے کے بعد رسولی بنتی ہے لیکن بے باقاعدگی سے سونے یا نیند کے اوقات میں تبدیلی سے رسولی آٹھ ہفتے پہلے ظاہر ہونے لگی۔

رپورٹ کے مطابق ’یہ پہلی تحقیق ہے جس میں دن اور رات کے کام کے اوقات اور چھاتی کے کینسر کے درمیان براہ راست ربط ظاہر کیا گیا ہے۔‘

انسانوں پر ریسرچ کے اثرات تو بتانا مشکل ہیں لیکن محقیقین کے خیال میں عمر اور جسماعت کے لحاظ سے مطلوبہ وزن سے 10 کلو زیادہ وزن سے چھاتی کے کینسر کے خطرات میں مبطلع خواتین کو پانچ سال پہلے کینسر ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں