ڈنمارک اور جرمنی کے درمیان زیرسمندر سرنگ کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ fehmarn as
Image caption اس منصوبے میں چار لین پر مشتمل موٹر وے اور دو رویہ ریلوے ٹریک شامل ہیں

ڈنمارک نے جرمنی سے ملانے والے 19 کلومیٹر لمبی زیرسمندر سڑک اور ریل کی سرنگ کی تعمیر کے لیے یورپی یونین کی منظوری حاصل کر لی ہے۔

زیرسمندر سرنگ کی تعمیر سے ڈنمارک اور جرمنی کا فاصلہ کئی گنا کم ہوجائے گا۔

فہمرن بیلٹ پراجیکٹ پر آٹھ ارب 70 کروڑ یورو کی لاگت آئے گی اور اس کے لیے اسے یورپی یونین کی جانب سے 58 کروڑ نوے لاکھ کی رقم حاصل ہوگی۔

یورپی یونین کمیشن نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ یورپی یونین کے ممالک کو دی جانے والی امداد کے اصولوں پر پورا اترتا ہے اور اس سے وسطیٰ یورپ اور سکنڈنیویا کے درمیان مواصلاتی روابط بڑھیں گے۔

یہ سرنگ ڈنمارک کے جزیرے لولینڈ کو جرمنی کے جزیرے فیہمرن سے ملائے گی۔ اس کی تعمیر کا آغاز آئندہ سال جنوری میں ہوگا اور توقع ہے کہ سنہ 2024 میں اسے کھول دیا جائے گا۔

اس منصوبے میں چار لین پر مشتمل موٹر وے اور دو رویہ ریلوے ٹریک شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ fehmarn as
Image caption اس کی تعمیر کا آغاز آئندہ سال جنوری میں ہوگا اور توقع ہے کہ سنہ 2024 میں اسے کھول دیا جائے گا

اس سرنگ سے کوپن ہیگن اور ہیمبرگ کے درمیان تیز ترین راستہ فراہم ہوجائے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ پانچ گھنٹوں پر مشتمل یہ سفر سرنگ کی تعمیر کے بعد دو گھنٹوں کے سفر تک محدود ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ اورسند ریل روڈ پل کوپن ہیگن کو سویڈن کے شہر ماملو سے پہلے ہی جوڑتا ہے۔

فیہمرن سرنگ کا منصوبے کے لیے یورپی یونین کی امداد یورپ کو آپس میں ملانے کی سکیم کا حصہ ہے، جس کا مقصد یورپ میں مواصلاتی انفراسٹرکچر جدید بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

جمعرات کو یورپی یونین کمیشن کی جانب سے جاری کردی بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی سرنگ کو ڈنمارک کی بپلک ٹرانسپورٹ میں انضمام کیا جائے گا اور اس سے ’نہ ہی مقابلے کے رجحان میں کمی ہوگی اور نہ ہی یہ دیگر رکن ممالک کی تجارت پر اثرانداز ہوگی۔‘

یہ سرنگ ڈنمارک کی ایک سرکاری کمپنی تعمیر کرے گی۔

اسی بارے میں