جہاز میں بم دھماکے سے بچانے والا فلائی بیگ

Image caption فلائی بیگ بم دھماکے کے نتیجے میں بم کے ٹکڑوں کے بکھرنے سے روک لیتا ہے

جہازوں پر لے جائے گئے بموں سے بچنے کے لیے ایک نئے نظام کی آزمائش کی گئی ہے جسے کے دوران ڈرامائی تجربات ہوئے ہیں۔

ایک آلہ جسے فلائی بیگ کہتے ہیں تیار کیا گیا ہے جو بم دھماکے کے نتیجے میں بم کے ٹکڑوں کے بکھرنے سے روکتا اور تصادمی موجوں کے اثر کو جذب کر لیتا ہے۔

اس آلے کا مقصد یہ کہ اگر کسی وجہ سے سکیورٹی ناکام ہوجائے اور بم جہاز کے سامان رکھنے والے خانے میں پہنچ جائے تو دھماکے سے حفاظت کے ساتھ بچا جا سکے۔

برطانیہ میں کوٹس ولڈز کے ہوائی اڈے پر پرانے جہازوں میں اس آلے کے آزمائشی تجربات سے پتہ چلا ہے کہ جہاز کے اندر دھماکوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

اس بیگ میں چار مختلف تہوں میں مواد استمعال کیا گیاہے جس میں کیوولر بھی شامل ہے جو گولی سے بچانے والی جیکٹوں میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ بیگ نہ صرف کم وزن ہے بلکہ مضبوط بھی ہے اور اس میں اتنی لچک ہے کہ بھرپور دھماکے کے اثرات سے ٹوٹے بغیر نمٹ لیتا ہے۔

دھماکوں سے بچنے کے لیے موجودہ ڈیزائن کے تحت سامان کے سخت خانے استعمال ہوتے ہیں جو بھاری اور مضبوط ترین دھاتوں سے بنائے جاتے ہیں۔ بہت سی فضائی کمپنیاں کہتی ہیں کہ یہ بہت بھاری اور مہنگے ہیں۔

Image caption فلائی بیگ کے منصوبے پر یورپی کمیشن نے پیسہ لگایا ہے

فلائی بیگ کے منصوبے پر یورپی کمیشن نے پیسہ لگایا ہے اسے انسٹی ٹیوٹس اور مخصوص کمپنیوں کا ایک کنسورشیم چلاتا ہے۔

شیفیلڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اینڈی دھماکہ خیز مواد کی انجینئرنگ کے ماہر ہیں اور اس منصوبے کا اہم کردار ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’جس طرح تجربے مکمل ہوئے ہیں اس سے ہم بہت خوش ہیں۔ ہم نے فلائی بیگ کو پہلے بھی بکسٹن کی لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا تھا لیکن کھلی جگہ پر اس کا تجربہ ابھی کیا گیا ہے۔ ‘

ڈاکٹر اینڈی کے مطابق ’ہمیں پتہ تھا کہ بیگ میں پھیلاؤ آئے گا۔ سوال یہ تھا کہ ہوائی فریم میں اس پھیلاؤ سے کتنی مشکل ہوگی۔ کیا اس سے توانائی کی منتقلی تو شروع نہیں ہو جائے گی؟ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ شکمن نے ایسے ایک تجربے کو دیکھا۔

وہ کہتے ہیں ’ایک بیگ میں دوسرے سامان کے ساتھ بم رکھ کر اسے فلائی بیگ میں ڈال دیا گیا اور اس فلائی بیگ کو پرانی ایئر بس 320 میں رکھ دیا گیا۔ ایک محفوظ فاصلے سے ہم نے دھماکہ ہوتے سنا لیکن دیکھنے میں کہیں کوئی خاص فرق نظر نہیں آیا۔ جب ہوا تھمی اورگرد بیٹھی تو مجھے دکھایا گیا کہ کس طرح بم دھماکے سے کچھ سامان جل گیا تھا لیکن فلائی بیگ محفوظ رہا اور جہاز پر کسی اثر کا نام و نشان نہیں تھا۔‘

Image caption فلائی بیگ کی ایک خاص قسم محفوظ ہے جسے تنگ جیٹ طیاروں کے سامان خانے کے اندر لٹکایا جائے گا

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس کی اہمیت یہ ہے کہ اگر انہی حالات اور اسی سائز کا بم کسی پرواز کے دوران پھٹتا تو یہ انتہائی تباہ کن نہ ہوتا اور جہاز پر مسافر محفوظ رہتے۔

سب سے پہلے اٹلی کی فضائی کمپنی میریڈیانا نے اس فلائی بیگ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اسے امید ہے کہ یہ تصدیق کر دے گی کہ فلائی بیگ کی ایک خاص قسم محفوظ ہے جسے تنگ جیٹ طیاروں کے سامان خانے کے اندر لٹکایا جائے گا۔ دوسری قسم سامان خانوں کی دیواروں کے ساتھ لگائی جائے گی جنھیں کھلے جہازوں کے اندر رکھا جا سکتا ہے۔تیسری قسم جو کافی چھوٹی ہے اسے مسافروں کی نشستوں والے حصے رکھا جائے گا۔

اٹلی کی مشاورتی کمپنی ڈی اپولونیا کے پروجیکٹ کے رابطہ کار ڈینٹو زنگانی کہتے ہیں ’مارکیٹ میں آنے کے لیے ہمارے پاس سب کچھ تیار ہے۔ ہمیں نظام کی کامیابی کے ثبوت میں صرف ان تجربات کی ضرورت تھی جو ہوگئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی نئی نہیں لیکن اس کے اندر جو مواد استعمال ہوا ہے وہ انوکھا ہے اور کمال یہ کہ اس کی موٹائی ایک اعشار تین ملی میٹر لیکن پیشگوئی کے عین مطابق یہ دھماکے اور دباؤ کے اثرات کو جذب کر سکتا ہے۔ یہ ایک قدم آگے رکھنا ہے۔‘

اسی بارے میں