’مون سون کی پیش گوئی میں تازہ پانی مددگار ہو سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption جنوبی ایشیا کے ماہر موسمیات نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے تازے پانی کے کردار پر غور و فکر کرنے پر سستی سے کام لیا ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بھارتی سمندر میں دریاؤں اور بارش کے مخصوص تازے پانی کی تہہ موجود ہے جو جنوبی ایشیا میں مون سون پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

انھوں نے ماہر موسمیات سے کہا ہے کہ وہ موسمیاتی پیشنگوئیوں کے لیے استعمال ہونے والے طریقہ کار میں کھارے پانی کی کم مقدار استعمال کریں۔

جنوبی ایشیا کے ماہر موسمیات نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے سمندر کی سطح پر تازے پانی کی اہمیت پر غور و فکر کرنے پر سستی سے کام لیا ہے۔

بھارت اور اس کے پڑوسی ممالک میں 70 فیصد مون سون کی بارشیں جون سے ستمبر کے دوران ہوتی ہیں لیکن خشک موسم کا طویل دورانیہ اور حالیہ برسوں میں مون سون کے دوارن شدید بارشوں کا ہونا جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے باعث تشویش ہے۔

اور ایسا ہی کچھ رواں سال بھی دیکھا گیا ہے جب جون میں غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں جبکہ جولائی اور اگست میں معمول کے مطابق بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اس خطے کے بعض ماہر موسمیات کے خیال میں تازہ پانی وہ ضروری عنصر ہو سکتا ہے جو لاپتہ تھا۔

گنگا، بارہمہ پترا اور اراوادی جیسے بڑے دریا خلیج بنگال میں گرتے ہیں۔

بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم اس مسئلے پر تحقیق کر رہی ہے۔

Image caption بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم اس مسلہ پر تحقیق کر رہی ہے

خلیج بنگال پر بھارتی اور امریکی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر تحقیق کرنے والے یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ماہر بحر جغرافیہ پروفیسر ایرک اے ڈی اسارو کا کہنا ہے کہ ’دریاؤں اور شدید بارشوں کی وجہ سے تازے پانی کی ایک بڑی مقدار خلیج بنگال کو ایک منفرد مقام بنا دیتا ہے اور مون سون کی پیش گوئی کرتے ہوئے اس بات پر غور نہیں کیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بہت سے وجوہات میں سے یہ بھی ایک وجہ ہے جس سے مون سون کی صحیح پیش گوئی نہیں کی جا سکی ہے۔دوسرے الفاظ میں مون سون کے دوران سمندر میں ماہانہ اتار چڑھاؤں کونہیں دیکھا جا سکا۔‘

پروفیسر ایرک کے مطابق: ’تازہ پانی، سمندر کی سطح پر جو تہہ ہوتی ہے اسے بہت پتلا اور ہلکا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے مون سون کے بادلوں پر اس کا رد عمل بہت شدید ہوتا ہے۔ دوسری جانب کھارا پانی انتہائی سست روی سے کام کرتا ہے اس لیے اس کا اثر مون سون پر کم پڑتا ہے۔‘

سمندری اجزا اور مون سون پراجیکٹ پر کام کرنے والے محقیقین کا کہنا ہے کہ انھیں سو میٹر سے دو سو کلو میٹر تک سمندری سطح پر دریائی اور سمندری پانی کی ’انتہائی واضح تفریق‘ نظر آئی ہے۔

بنگلہ دیش کے محمکۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل شمس الدین احمد کا کا کہنا ہے کہ وہ ہوا کی رفتار پر مون سون کی پیش گوئی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خطے میں مون سون کے بارے میں جاننے کے لیے تازے پانی کے کردار اور ایسے کسی طریقے کے بارے میں، میں نہیں جانتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں طویل المیعاد اور صحیح پیش گوئی کے لیے ہمیں تازے پانی پر تحقیق کرنی ہوگی اور اسے اپنے طریقہ کار میں شامل کرنا ہوگا۔‘

پاکستان میں محکمۂ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ عالمی طریقہ کار کی بجائے سمندر کی سطح کے دجہ حرارت کو دیکھ کر ملک میں مون سون کی بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہیں۔

وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ سطح سمندر کے درجہ حرارت کو استعمال کرتے وقت تازہ پانی کو نہیں دیکھتے ہیں۔

Image caption انھوں نے ماہر موسمیات سے کہا ہے کہ وہ موسمیاتی پیش گوئیوں کے لیے استعمال ہونے والے طریقہ کار میں کھارے پانی کی کم مقدار استعمال کریں

پاکستان میں ہونے والی مون سون بارشوں میں سے 60 فیصد بھارتی مون سون سسٹم کی وجہ سے ہوتی ہیں، جبکہ بقیہ بارشیں بحیرۂ عرب کی جانب سے آنے والی دسمبر اور فروری کے درمیان سرد مون سون میں ہوتی ہیں۔

تاہم بھارتی محمکہ موسمیات کے ایل ایس راٹھور کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ابھی بھی غیر واضح ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سطح سمندر کا درجہ حرارت یقینی طور پر مون سون کے پھیلاؤ پر اثر انداز ہوتا ہے لیکن کا اس کا اثر طویل مدتی ہوتا ہے۔‘

راٹھور نے مزید کہا کہ ’ابھی تک اس مسئلے کو سمجھنا بہت مشکل ہے، پہلے تحقیق سے چیزوں کو واضح ہونے دیں۔‘

لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر خلیج بنگال کے ارد گرد کے ممالک تازے پانی کو اپنی پیش گوئی کے طریقہ کار میں شامل کرنا بھی چاہیں تو تفصیلی معلومات میسر نہیں ہیں۔

بھارتی ماہر موسمیات بی این گوسوامی کا کہنا ہے کہ ’ ہمارے پاس طویل المیعاد اعداد و شمار تو ہیں لیکن ہر سال کی تبدیلیوں کی تفصیلات ہمارے پاس نہیں ہیں جس کی وجہ اس خطے کے ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی ہے۔‘

’تازے پانی کے سمندر میں داخل ہونے کی سالانہ معلومات مون سون پر اس کے اثرات کو سمجھنے میں بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔‘

بھارت اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان پانی کے متعلق کوائف کہ تبادلہ ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے۔

پروفیسر گوسوامی کا کہنا ہے کہ ’ان ممالک کو ایک ہونا ہوگا اگر وہ واقعی میں یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ تازے پانی کے کھارے پانی اور مون سون کے نظام پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔‘

اسی بارے میں